فیصل آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کماد کی مونڈھی فصل رکھنے کیلئے کماد کی کٹائی فروری کے آخری ہفتہ سے شروع کر کے مارچ کے دوسرے ہفتے تک مکمل کرلیں کیونکہ اس وقت رکھی مونڈھی فصل سے شگوفے خوب پھوٹتے اور پودے اچھا جھاڑ بناتے ہیں۔نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں …
کاشتکاروں کو مونڈھی فصل کیلئے فروری کے آخری ہفتہ سے کماد کی کٹائی شروع کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کماد کی مونڈھی فصل رکھنے کیلئے کماد کی کٹائی فروری کے آخری ہفتہ سے شروع کر کے مارچ کے دوسرے ہفتے تک مکمل کرلیں کیونکہ اس وقت رکھی مونڈھی فصل سے شگوفے خوب پھوٹتے اور پودے اچھا جھاڑ بناتے ہیں۔نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں کماد کے زیر کاشتہ رقبہ میں سے 40سے 45فیصد رقبہ پر مونڈھی فصل رکھی جاتی ہے جبکہ گنے کی فصل کا منافع بخش پہلو اس کی مونڈھی فصل کی بہتر پیداواری صلاحیت پر منحصر ہے۔
انہوں نے کہاکہ دسمبر اور جنوری کے آغاز میں رکھی گئی فصل میں سردی کی شدت سے مڈھوں میں پوشیدہ آنکھیں مر جاتی ہیں نیز مونڈھی فصل کے کھیت کے چناؤ کیلئے لیرا فصل کا بیماریوں سے محفوظ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار گری ہوئی فصل سے آئندہ فصل کیلئے مونڈھی فصل نہ رکھیں اور فصل کاٹتے وقت گنا سطح زمین سے آدھا تا ایک انچ گہرا کاٹیں کیونکہ اس سے زیر زمین پڑی آنکھیں زیادہ صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں اور مڈھوں میں موجود گڑوؤں کی سنڈیاں تلف ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار مونڈھی فصل کی اچھی پیداوار کیلئے ناغوں کو بروقت پر کریں اور ناغے پر کرنے کیلئے علیحدہ نرسری لگائیں۔
انہوں نے کہاکہ چونکہ مونڈھی فصل کی کھاد کی ضروریات لیرا فصل کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا مونڈھی فصل میں سفارش کردہ مقدار سے 30فیصد زائد کھاد ڈالی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ کماد کے کاشتکار بہاریہ کاشت بھی مارچ کے وسط تک مکمل کرلیں اور زمین کی بہتر تیاری کیلئے ہر تین سال بعد ایک دفعہ سب سائلر ہل کااستعمال بھی کریں تاکہ زمین زیادہ گہرائی تک نرم، بھربھری اور مکمل تیار ہوجائے نیز کماد کی اچھی پیداوار کیلئے بھاری میرازمین کاانتخاب کیاجائے جس میں پانی کامناسب نکاس موجود ہوتاہم کماد کی فصل ہلکی میرا اورمیرا زمین پر بھی کاشت کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کماد کی فصل مونجی کے وڈھ میں اور کپاس کے بعد بھی کاشت کی جا سکتی ہے تاہم ان فصلات کی برداشت کے بعد روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو زمین میں ملا نے کے بعد کم گہری10سے12انچ والی کھیلیوں کیلئے دو مرتبہ کراس چیزل ہل یا ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلایاجائے اور اگر زیادہ گہری کھیلیاں 18انچ بنانی ہوں تو سب سائلر کا استعمال کرتے ہوئے زمین کو ہموار کرلیناچاہیے۔
انہوں نے کہاکہ کاشتکار ہموار زمین میں گہرا ہل چلا کرمناسب تیاری کے بعد سہاگہ دیں اور پھر رجر کے ذریعے 10سے 12 انچ کی گہری کھیلیاں 4 فٹ کے فاصلے پر بناکر ان میں پہلے فاسفورسی اور پوٹاش کی کھادیں ڈالیں اور پھرسیاڑوں میں سموں کی دو لائنیں 8سے9انچ کے فاصلے پر اس طرح لگائیں کہ سموں کے سرے آپس میں ملے ہوئے ہوں اوراب ان کو مٹی کی ہلکی سی تہہ سے ڈھانپ دیں۔ انہوں نے کہاکہ بیج پر مٹی ڈالنے میں احتیاط کی جائے اورسہاگہ پھیرنے کی بجائے ہاتھ یا پاؤں سے مٹی ڈالیں اورہلکا پانی لگا دیں۔








