کاشتکار بہتر و معیاری پیداوار کیلئے بہاریہ کماد کی کاشت وسط مارچ تک مکمل کرلیں،ترجمان

لاہور۔19فروری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کاشتکار بہتر اور معیاری پیداوار کیلئے بہاریہ کماد کی کاشت وسط فروری تا وسط مارچ تک مکمل کریں ۔سوموار کو جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ کاشتکار کماد کی بہتر پیداوار کے لئے محکمہ زراعت کی منظورشدہ اقسام علاقائی تقسیم کے لحاظ سے کاشت کریں۔ کماد کی اگیتی پکنے والی اقسام میں سی پی400 77-،سی پی ایف237،ایچ ایس …

لاہور۔19فروری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کاشتکار بہتر اور معیاری پیداوار کیلئے بہاریہ کماد کی کاشت وسط فروری تا وسط مارچ تک مکمل کریں ۔سوموار کو جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ کاشتکار کماد کی بہتر پیداوار کے لئے محکمہ زراعت کی منظورشدہ اقسام علاقائی تقسیم کے لحاظ سے کاشت کریں۔

کماد کی اگیتی پکنے والی اقسام میں سی پی400 77-،سی پی ایف237،ایچ ایس ایف242 ،سی پی ایف250،سی پی ایف251 ،درمیانی پکنے والی اقسام میں ایچ ایس ایف240 ،ایس پی ایف234،ایس پی ایف213،سی پی ایف 246،سی پی ایف247،سی پی ایف248 ،سی پی ایف249 ،سی پی ایف253 ۔پچھیتی پکنے والی اقسام میںسی پی ایف252۔یاد رہے ایس پی ایف234صرف راجن پور،بہاولپور اور رحیم یار خان کیلئے موزوں ہے لیکن دریائی علاقوں میں اس کی کاشت ہرگز نہ کریں۔

ایچ ایس ایف 240 ،ایچ ایس ایف242،ایس پی ایف213، سی پی400 77-،سی پی ایف237،سی پی ایف252 اور سی پی ایف253 دریائی علاقوں کیلئے موزوں اقسام ہیںجبکہ سی پی ایف246 ،سی پی ایف247 ،سی پی ایف248 ،سی پی ایف249 ،سی پی ایف250 اور سی پی ایف251غیر دریائی علاقوں کیلئے موزوں اقسام ہیں۔گنے کی زیادہ اور بھرپور پیداوار کے حصول کے لیے شرح بیج کو بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ گنے کے بیج کا اگائو دیگر فصلات کی نسبت بہت کم ہے اگربیج ضرورت سے کم استعمال ہوتو فی ایکڑ پیداوار کم ہو جاتی ہے اس لیے بیج سفارش کردہ مقدار میں ڈلیں ۔

بروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں دو آنکھوں والے 30 ہزار سمے یا تین آنکھوں والے 20 ہزار سمے فی ایکڑ ڈالیں۔ یہ تعداد موٹی اقسام میں تقریباً 100 سے 120 من اور باریک اقسام میں 80 سے 100 من بیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کماد کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے میرا اور بھاری میرا زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو اور نامیاتی مادہ بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہوموزوں رہتی ہے۔ سیم اور تھور والی زمینیںگنے کی کاشت کے لیے موزوں نہیں ۔

 

مزید خبریں