وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا بین الاقوامی سیمینار ”استحکام اور امن کاوشوں کے حوالہ سے تجربات کا تبادلہ“ میں اظہارخیال

اسلام آباد ۔ 15 مارچ (اے پی پی) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پائیدار امن، استحکام اور جاری ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد کا حصول اس وقت تک مشکل ہو گا جب تک علاقائی طاقتیں بین الاقوامی برادری کی معاونت سے مشترکہ چیلنجوں اور باہمی مسائل پر قابو پانے کیلئے مل جل کر کام نہیں کرتیں کیونکہ باہمی عدم اعتماد اور الزام تراشی سے …

اسلام آباد ۔ 15 مارچ (اے پی پی) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پائیدار امن، استحکام اور جاری ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد کا حصول اس وقت تک مشکل ہو گا جب تک علاقائی طاقتیں بین الاقوامی برادری کی معاونت سے مشترکہ چیلنجوں اور باہمی مسائل پر قابو پانے کیلئے مل جل کر کام نہیں کرتیں کیونکہ باہمی عدم اعتماد اور الزام تراشی سے غیر ریاستی کرداروں اور مذموم عزائم کیلئے امن کو سبوتاژ کرنے والوں کو استحکام ملے گا، بین الاقوامی برادری دیرینہ علاقائی مسائل سے لاتعلق رہنے اور صرف اسی صورت مداخلت کرنے جب اس میں اس کا مفاد ہو یا قلیل المدت مقاصد ہوں، کی پالیسی چھوڑے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اسلام فوبیا سے باہر آئے، میرے مذہب کو ہدف بنانا اور اسے دہشت گردی سے جوڑنا انتہائی نامناسب اور افسوسناک ہے، دنیا میں ایک ارب 20 کروڑ مسلمان دہشت گردی کی لعنت سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری دہشت گردی اور آزادی کی جدوجہد کے درمیان فرق واضح کرے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان نے اندرونی اور بیرونی امن کے حصول کیلئے کوششوں کی بھاری قیمت ادا کی، امن و استحکام کے فروغ کیلئے ہماری قربانیاں ہماری کمٹمنٹ کا اظہار ہیں جو کسی اور ملک یا قوم نے نہیں دیں ماسوائے چند دوست ممالک کے۔ بین الاقوامی برادری جو ہمارے دشمنوں سے متاثر ہے ہمارے ایشوز اور خطرات کا احساس نہیں کر رہی جو ہمیں اندرونی و بیرونی سرحدوں پر درپیش ہیں۔

Leave a Reply