اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وفاقی آڈٹ رپورٹس میں غلط بیانی یا حسابی غلطیوں کے حوالہ سے حالیہ میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ان الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔پیرکویہاں جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ سال 2024-2025 کی آڈٹ رپورٹس اور تخصیصی/مالیاتی گوشوارے صدرِ پاکستان کو وزیر اعظم کے ذریعے آئین اور رولز آف بزنس کے مطابق …
وفاقی آڈٹ رپورٹس میں غلط بیانی یا حسابی غلطیوں کے حوالہ سے حالیہ میڈیا رپورٹس بے بنیاد اور گمراہ کن ہے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وفاقی آڈٹ رپورٹس میں غلط بیانی یا حسابی غلطیوں کے حوالہ سے حالیہ میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ان الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔پیرکویہاں جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ سال 2024-2025 کی آڈٹ رپورٹس اور تخصیصی/مالیاتی گوشوارے صدرِ پاکستان کو وزیر اعظم کے ذریعے آئین اور رولز آف بزنس کے مطابق پیش کیے گئے۔ صدر نے ان رپورٹس کی منظوری دی اور بعد ازاں یہ رپورٹس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو بھیج دی گئیں۔محکمے نے وضاحت کی ہے کہ چونکہ ڈی اے جی پی ملک کا سپریم آڈٹ ادارہ ہے، اس کی کارروائیاں آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکلز 168 تا 171 کے تحت ہوتی ہیں۔ آرٹیکل 171 واضح طور پر درج ہے کہ’’آڈیٹر جنرل کی وفاقی اکائونٹس سے متعلق رپورٹس صدر کو پیش کی جائیں گی، جو انہیں مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنے کا حکم دیں گے۔ صوبائی اکائونٹس سے متعلق رپورٹس صوبے کے گورنر کو پیش کی جائیں گی، جو انہیں صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دیں گے۔‘‘ بیان میں کہاگیاہے کہ صدر کی جانب سے ان رپورٹس کی منظوری 12 اپریل 2025ء کو صدارتی سیکریٹریٹ کے ذریعے باضابطہ طور پر دی گئی۔ اس اطلاع کے بعد مطلوبہ تعداد میں وفاقی آڈٹ رپورٹس طباعت کے لیے تیار کی گئیں تاکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی جا سکیں۔
آڈیٹر جنرل کی درخواست پر یہ قراردادیں 13 اگست 2025ء کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کی گئیں۔ تاہم اسی روز قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے (ڈپٹی سیکریٹری برائے قانون سازی کے ذریعے) اطلاع دی کہ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے، لہٰذا رپورٹس پیش کرنے کی قرارداد ایجنڈے میں شامل نہیں ہو سکی۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ رپورٹس قانون سازی برانچ سے وصول کی جا سکتی ہیں، مگر ان کی رازداری برقرار رکھی جائے گی جب تک کہ انہیں باضابطہ طور پر ایوان میں پیش نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ واضح کیا گیا کہ سینیٹ کو بھیجی گئی آڈٹ رپورٹس تاحال سینیٹ سیکریٹریٹ کی تحویل میں ہیں۔بیان میں کہاگیاہے کہ ان تمام وضاحتوں کی روشنی میں، اخبارات کے مختلف حصوں میں گردش کرنے والی یہ خبریں کہ آڈٹ رپورٹس میں حسابی غلطیاں ہیں یا یہ رپورٹس قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو واپس بھیج دی ہیں، سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آڈٹ رپورٹس اور مالیاتی گوشوارے صدر کی جانب سے اعظم کے مشورے پر دی گئی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھیجے گئے تاکہ انہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جا سکے۔ مزید یہ بھی واضح کیا گیا کہ آڈٹ رپورٹس مکمل معیار اور جانچ کے بعد تیار کی گئیں اور ان میں کوئی غلطی موجود نہیں تھی۔ میڈیا میں جس اعداد و شمار کا ذکر کیا گیا ہے، وہ صرف وفاقی آڈٹ رپورٹ 2024-25 کے ایگزیکٹو سمری میں شامل تھے جو صرف ایک حوالہ جاتی دستاویز کے طور پر تیار کی گئی ہے تاکہ متعلقہ فریقین مختلف شعبوں کی نشاندہی شدہ رپورٹس تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔








