لاہور۔28اکتوبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق گندم کے کاشتکار بارانی کم بارش والے علاقوں (راجن پور،لیہ،ڈیرہ غازی خان،مظفرگڑھ،بھکر،میانوالی،جنڈ،پنڈی گھیب اور خوشاب کے بارانی علاقہ جات) میں بوائی سے قبل زمین کی تیاری کے وقت ایک بوری ڈی اے پی،ایک بوری یوریا اورآدھی بوری ایس او پی یا ایم او پی فی ایکڑ ڈالیں جبکہ درمیانی بارش والے علاقوں (چکوال،تلہ گنگ اور پنڈ دادن خان کے علاقہ جات)میں …
محکمہ زراعت کی بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کے وقت کھادوں کے استعمال بارے سفارشات جاری

مزید خبریں
لاہور۔28اکتوبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق گندم کے کاشتکار بارانی کم بارش والے علاقوں (راجن پور،لیہ،ڈیرہ غازی خان،مظفرگڑھ،بھکر،میانوالی،جنڈ،پنڈی گھیب اور خوشاب کے بارانی علاقہ جات) میں بوائی سے قبل زمین کی تیاری کے وقت ایک بوری ڈی اے پی،ایک بوری یوریا اورآدھی بوری ایس او پی یا ایم او پی فی ایکڑ ڈالیں جبکہ درمیانی بارش والے علاقوں (چکوال،تلہ گنگ اور پنڈ دادن خان کے علاقہ جات)میں سوا بوری ڈی اے پی،سوا بوری یوریا اور آدھی بوری ایس او پی فی ایکڑ ڈالیں۔
زیادہ بارش والے علاقہ جات (راولپنڈی، اٹک، جہلم، ناروال، سوہاوہ،ناروال،گجرات،کھاریاں اور شکرگڑھ کے علاقہ جات) میں ڈیرھ بوری ڈی اے پی اورڈیرھ بوری یوریا اورایک بوری ایس او پی یا ایم او پی فی ایکڑ استعمال کریں۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ ڈرل کے ذریعہ کاشت اور بوائی کے وقت ڈالی جانے والی کھاد کے استعمال کی صورت میں کھادوں کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ کھاد چونکہ پودوں کی جڑوں کے قریب گرتی ہے اور اس طرح فصل کھاد کا ہر دانہ استعمال کر سکتی ہے۔








