زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) اور غیر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (نان جی ایم) مکئی سے متعلق مشاورتی اجلاس کا انعقاد

فیصل آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منگل کے روز جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) اور غیر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (نان جی ایم) مکئی سے متعلق پالیسی سفارشات پر دوسرا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد اس فصل کی صلاحیت کو بروئے کار لانا، پیداوار میں اضافہ کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنا تھا۔ اس …

فیصل آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منگل کے روز جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) اور غیر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (نان جی ایم) مکئی سے متعلق پالیسی سفارشات پر دوسرا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد اس فصل کی صلاحیت کو بروئے کار لانا، پیداوار میں اضافہ کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنا تھا۔ اس سلسلے میں شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس کی جانب سے ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ،جس کی صدارت زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کی۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ مکئی ،گندم اور چاول کے بعد ملک کی تیسری بڑی فصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی جدید ٹیکنالوجیز اپنانا ہوں گی جو پیداوار میں اضافہ کریں اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دیں۔ انہوں نے کہا کہ مکئی کی فصل کو موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر مختلف کیڑوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

دوسری طرف سپرے کے زیادہ استعمال سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور صحت کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر جملہ مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جی ایم اور نان جی ایم فصلوں پر بہترین حل تلاش کرنے کے لیے متعدد سیشنز کا آغاز کیا جا چکا ہے جس میں سیرحاصل گفتگو اور ماہرین کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔ زرعی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ زرعی چیلنجز کے پیشِ نظر ہمیں موسمیاتی لحاظ سے لچکدار ٹیکنالوجی اپنانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے بیج ایکٹ اور نیشنل ایگریکلچر بائیوٹیکنالوجی پالیسی کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں ان فصلوں میں جی ایم او کی کاشت کی اجازت دی جانی چاہیے جہاں اس کی فوری ضرورت ہے۔ دوسرے مرحلے میں ان فصلوں پر غور کیا جائے گا جہاں حیاتیاتی طور پر جی ایم او بہتر ہیں لیکن برآمدات کے پہلو کو بھی مدِنظر رکھنا ہو گا۔

بائرایشیا پیسیفک کی سیڈ اینڈ ٹریٹ لیڈ امانڈا فوسٹر نے کہا کہ پاکستان جی ایم مکئی کاشت کے حوالے سے ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈویلپرز کے پاس ایسے وسائل اور آلات موجود ہیں جو پاکستانی کسانوں کا بوجھ کم کرنے کے ساتھ ساتھ پیداواری لاگت، کیڑے مار ادویات کے استعمال کمی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود نے کہا کہ مسلم ممالک ٹیکنالوجی کے استعمال اور ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں،بہتر مستقبل کے لیے ہمیں جدت پسند سوچ کو پروان چڑھانا ہو گا۔ بریگیڈیئر سہیل، بریگیڈیئر طلحہ، ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، چیئرمین پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیٹکس پروفیسر ڈاکٹر عظیم اقبال، چیئر ایگریکلچر پالیسی پروفیسر ڈاکٹر آصف کامران، ڈاکٹر محمد شوکت علی، ڈاکٹر سجاد الرحمان، ڈاکٹر قمر شکیل، طلال حکیم، ڈاکٹر ظفر حیات، آفاق ٹوانہ، ڈاکٹر محمد اسلم اور دیگر معززین نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

مزید خبریں