علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کا عالمی سطح پر کردار ناگزیر ہے، پروفیسر چنگ شیزونگ

بیجنگ۔15نومبر (اے پی پی):پاکستان عالمی امور میں ایک مؤثر اور اہم کردار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کی بنیاد اس کی اسٹریٹجک جغرافیائی اہمیت، فعال سفارت کاری اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مستقل عزم ہے۔ عالمی کردار کے تنوع نے پاکستان کی توجہ روایتی سکیورٹی امور سے بڑھا کر معاشی تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ یکجہتی تک پھیلا دی ہے۔ان خیالات کا …

بیجنگ۔15نومبر (اے پی پی):پاکستان عالمی امور میں ایک مؤثر اور اہم کردار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کی بنیاد اس کی اسٹریٹجک جغرافیائی اہمیت، فعال سفارت کاری اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مستقل عزم ہے۔ عالمی کردار کے تنوع نے پاکستان کی توجہ روایتی سکیورٹی امور سے بڑھا کر معاشی تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور گلوبل ساؤتھ کے ساتھ یکجہتی تک پھیلا دی ہے۔ان خیالات کا اظہار چین کے غیر سرکاری تھنک ٹینک ’چارخار انسٹیٹیوٹ‘ کے سینئر ریسرچ فیلو پروفیسر چنگ شیزونگ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک مرکزی اتصال کا کردار ادا کرتا ہے۔

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کے اہم شراکت دار کے طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے پاکستان کو علاقائی معاشی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے تجارت و توانائی کے رابطوں کو فروغ ملا ہے۔ یہی کردار پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے براعظمی تجارتی پل کی حیثیت عطا کر رہا ہے۔علاقائی سلامتی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ناگزیر حیثیت حاصل ہے۔

ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر پاکستان نے قابلِ عمل معلومات کے تبادلے اور فیصلہ کن کارروائیوں کے ذریعے سرحدی دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی حالیہ کامیاب سفارتی کوششیں اس کی غیر جانبدار ثالث کے طور پر بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ کی علامت ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گلوبل ساؤتھ کی آواز کو بلند کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں پاکستان مساوی ترقیاتی پالیسیوں اور ماحولیاتی انصاف کے لیے مؤثر آواز اٹھا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اس کی مسلسل شمولیت پاکستان کے ذمہ دار اور پُرامن عالمی کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان چیلنجز سے دوچار ہےاس کی اسٹریٹجک حکمت عملی نے جغرافیائی سیاست کے دباؤ کو عملی مواقع میں بدلنے میں مدد دی ہے۔ بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اور علاقائی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئےپاکستان نے عالمی سفارت کاری میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔

پروفیسرچنگ شیزونگ کے مطابق عالمی تبدیلیوں کی موجودہ رفتار کے پیش نظر پاکستان کا کردار بطور رابطہ کار، ثالث اور ترقی پذیر دنیا کا وکیل آئندہ برسوں میں مزید اہمیت اختیار کرے گا۔

مزید خبریں