حکومت نجی شعبہ کی قیادت میں اقتصادی ترقی و نموکی پالیسی پرگامزن ہے، وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی نائیجیرین وفد سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت نجی شعبہ کی قیادت میں اقتصادی ترقی ونموکی پالیسی پرگامزن ہے،زرعی اور صنعتی منڈیوں میں غیر ضروری حکومتی مداخلت میں کمی کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں نائیجیریا کے ریونیوموبلائزیشن اینڈفسکل کمیشن کے 13 رکنی وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت فیڈرل کمشنر بیریسٹر ایمو ایفانگ اکپانکر رہے تھے۔اس موقع …

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت نجی شعبہ کی قیادت میں اقتصادی ترقی ونموکی پالیسی پرگامزن ہے،زرعی اور صنعتی منڈیوں میں غیر ضروری حکومتی مداخلت میں کمی کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں نائیجیریا کے ریونیوموبلائزیشن اینڈفسکل کمیشن کے 13 رکنی وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت فیڈرل کمشنر بیریسٹر ایمو ایفانگ اکپانکر رہے تھے۔اس موقع پر وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔

وزیر خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور دوست ممالک کے ساتھ بالخصوص مالیاتی حکمرانی اور محصولات میں اصلاحات کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون اور مکالمے کو وسعت دینے کے لئے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔ بیریسٹر ایمو ایفانگ اکپان نے وزیر خزانہ کو نائیجیریا کے ریونیوموبلائزیشن اینڈفسکل کمیشن کے مینڈیٹ پر بریفنگ دی اوربتایا کہ کمیشن نائیجیریا کا ایک آئینی ادارہ ہے جس کا کام ریونیو الاٹمنٹ فریم ورک کی تشکیل، سرکاری شعبے میں تنخواہوں سے متعلق مشاورت اور وفاقی ڈھانچے میں مالی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وفد نائیجیریا کے قومی ریونیو ڈسٹری بیوشن فارمولے کے جاری جائزے کے سلسلے میں سٹڈی ٹور پر ہے اور پاکستان میں ایف بی آر اور دیگر حکومتی اداروں سے مشاورت خصوصاً ٹیکس ایڈمنسٹریشن، کسٹمز کی جدید کاری، وسائل کے بہتر انتظام اور وفاقی ریونیو شیئرنگ کے طریقہ کار کے حوالے سے پاکستان کے تجربے سے سیکھنے کے لئے ترتیب دیئے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے وفد کو پاکستان کی معاشی پیشرفت اور وزیراعظم کی قیادت میں حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے بارے آگاہ کیا۔ انہوں نے گزشتہ 18 ماہ میں کلی معیشت کے اشاریوں میں ہونے والی بہتری سے آگاہ کیا جن میں بیرونی کھاتوں کا استحکام، مہنگائی میں کمی، مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری اور مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ شامل ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ذمہ دار معاشی نظم و نسق اور عالمی مالیاتی اداروں سے مؤثر روابط کے ذریعے اصلاحاتی رفتار جاری رکھے گی۔

وزیر خزانہ نے جاری بڑی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی جن میں ٹیکس کی بنیادمیں وسعت، وسیع پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن، رسک پر مبنی ریئل ٹائم کمپلائنس اور دستاویز کاری میں بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت کا بھی ذکر کیا جس کا مقصد گردشی قرضہ میں کمی، گورننس میں بہتری، لاگت کے مطابق ٹیرف اور مارکیٹ پر مبنی آپریشنز کی طرف منتقلی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات جاری ہیں جن میں ہولڈنگ کمپنی کا ڈھانچہ اپنانا اور نجکاری کے عمل میں تیزی شامل ہے اور اب تک 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنشن اصلاحات اور حکومتی اخراجات کی معقولیت پر بھی پیشرفت جاری ہے تاکہ طویل المدتی مالیاتی پائیداری کو مضبوط بنایا جا سکے۔ وزیرخزانہ نے وفد کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جامع تبدیلی کاعمل براہِ راست وزیراعظم کی نگرانی میں جاری ہے جس میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن، کسٹمز آٹومیشن میں بہتری، شفافیت اور کمپلائنس انفورسمنٹ کا مضبوط نظام اور پاکستان ریونیو اتھارٹی ماڈل کی طرف منتقلی کے لئے تیاریاں شامل ہیں۔ سوالات کے جواب میں سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کے نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے رجحان کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ متعدد شعبوں میں خصوصاً بینکاری میں نجی شعبے کی مضبوط شمولیت سامنے آئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ایسے ضابطہ جاتی ماحول کی تشکیل کے لئے پُرعزم ہے جوخاص طور پر زرعی اور صنعتی منڈیوں میں غیر ضروری حکومتی مداخلت کو کم کرے۔وزیر خزانہ نے پاکستان کے دو ماہانہ وفاقی ریونیو ڈسٹری بیوشن کے طریقہ کار کی وضاحت بھی کی جو آئینی فریم ورک کے تحت وزارتِ خزانہ کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سرکاری عہدیداران کی تنخواہوں سے متعلق فیصلہ سازی سے بھی آگاہ کیا۔ وزیرخزانہ نے پاکستان کی دوست ملکوں کے ساتھ دیرینہ شراکت داریوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بزنس ٹوبزنس تعاون خصوصاً مائننگ، قابلِ تجدید توانائی اور صنعتی ترقی کے شعبوں کو تیزی سے فروغ دے رہی ہے۔

انہوں نے نائیجیریا کے ساتھ علم کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون جاری رکھنے کے لیے پاکستان کی بھرپور آمادگی کا یقین دلایا۔ وزیر خزانہ نے وفد کا ان کے عملی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال پر شکریہ ادا کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان میں ہونے والی یہ مشاورتیں نائیجیریا کے مالیاتی اصلاحاتی عمل میں معنی خیز کردار ادا کریں گی۔ بیریسٹر اکپان نے حکومتِ پاکستان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ دورے کے دوران حاصل ہونے والی معلومات نائیجیریا کی قومی پالیسی کے جائزے میں شامل کی جائیں گی۔

مزید خبریں