اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):یورپی یونین کی توثیق کے بعدافغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے مکروہ چہرے عالمی سطح پر بےنقاب ہوگئے،یورپی یونین میں افغانستان میں موجود دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر پاکستان کے مؤقف کی تائیدہے۔تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے سفیر نے پاکستان کا طالبان سے کالعدم ٹی ٹی پی(فتنہ الخوارج) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ معقول قرار دے دیا۔ یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے …
یورپی یونین کی توثیق کے بعدافغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے مکروہ چہرے عالمی سطح پر بےنقاب، افغانستان میں موجود دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر پاکستان کے مؤقف کی تائید

مزید خبریں
اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):یورپی یونین کی توثیق کے بعدافغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے مکروہ چہرے عالمی سطح پر بےنقاب ہوگئے،یورپی یونین میں افغانستان میں موجود دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر پاکستان کے مؤقف کی تائیدہے۔تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے سفیر نے پاکستان کا طالبان سے کالعدم ٹی ٹی پی(فتنہ الخوارج) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ معقول قرار دے دیا۔
یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان سےٹی ٹی پی(فتنہ الخوارج) کے خلاف اقدام کا مطالبہ جائز اور حقیقی سکیورٹی تشویش کی بنیاد پر ہے،یورپی یونین دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خدشات سرحد پار سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات پر مبنی ہیں،یورپی یونین کے سفیر کی توثیق کی کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث ہیں۔پاکستان نے دلائل اور شواہد کی بنا پر مؤقف منوایا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان افغانستان سے سرگرم ہیں۔یورپی یونین کی سرحد پار سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات کی توثیق پاکستان کے مؤقف کی شاندار کامیابی ہے۔








