کوئٹہ۔ 21 نومبر (اے پی پی):سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ناصر محمود کی زیر صدارت سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں کمیٹی ممبران سینیٹرز بلال خان مندوخیل، عبد الشکور خان اچکزئی، میڈم حسنہ بانو، میڈم خالدہ اتیب ،محکمہ ہائوسنگ اینڈورکس کے حکام، سٹیٹ آفس،پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں سٹیٹ آفس کے 10 ملازمین سے متعلق مسئلہ زیر غور …
سینیٹرناصر محمود کی زیرصدارت سینیٹ کی سٹیڈنگ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈورکس کااجلاس

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 21 نومبر (اے پی پی):سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ناصر محمود کی زیر صدارت سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں کمیٹی ممبران سینیٹرز بلال خان مندوخیل، عبد الشکور خان اچکزئی، میڈم حسنہ بانو، میڈم خالدہ اتیب ،محکمہ ہائوسنگ اینڈورکس کے حکام، سٹیٹ آفس،پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے حکام بھی موجود تھے۔
اجلاس میں سٹیٹ آفس کے 10 ملازمین سے متعلق مسئلہ زیر غور آیا جن کے حل کیلئے کمیٹی نے 10 دن کی مہلت دی۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس اور ڈائریکٹر جنرل سٹیٹ آفس کی جانب سے کمیٹی کو بریفننگ دی گئی۔ کمیٹی کو محکمہ ہائوسنگ اینڈ ورکس، سٹیٹ آفس کی جانب سے فیڈرل لاجز میں رہائش، کرایہ و دیگر امور، ملازمین کی اعداد و شمار، فیڈرل لاجز کی یوٹیلیٹی بلز، فیڈرل لاجز کی آمدن، اخراجات، سریاب میں 250 کالونی بارے بریفننگ، پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد خان کی جانب سے کچلاک ہائوسنگ سکیم بارے بریفنگ دی گئی۔
کمیٹی ممبران نے فیڈرل لاجز میں میں صفائی کی صورت حال بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے فیڈرل لاجز کے گیس کے زیادہ بل پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ بل زیادہ آنے کی وجوہات کیا ہیں ؟ اس کے ساتھ کمیٹی نے وفاقی ملازمین کی 250 کالونی میں غیر قانونی طور مقیم رہائشی سے مکانات خالی کرانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مذکورہ اراضی بلوچستان حکومت کو فروخت کرنے کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کیا جا رہا ہے جس میں کالونی میں رہائش پذیر بلوچستان کانسٹیبلری اور فرنٹیئر کور کرایہ کی ادائیگی سمیت مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
کمیٹی نے استفسار کیا کہ کیا مذکورہ کالونی بلوچستان حکومت کو فروخت کرنا محکمے کے حق میں ہے ؟ ۔اجلاس میں کمیٹی نے پاکستان ہاسنگ اتھارٹی اور کام کرنے والے کنٹریکٹرز سے کچلاک ہائوسنگ اسکیم و دیگر سے متعلق درپیش رکاوٹوں بارے استفسار کیا۔ کمیٹی نے کنٹریکٹر کے ساتھ کاغذی کارروائی مکمل کرنے اور اس حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
کمیٹی چیئرمین ناصر محمود نے ہدایت کی کہ ہر 2 ماہ میں باقاعدگی کے ساتھ رپورٹ کمیٹی کو بھیجی جائے اور کام کے معیار پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے۔ کمیٹی چیئرمین نے پاکستان ہاسنگ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ چھوٹے ایشوز اپنے طور پر حل کریں تاکہ کام میں تیزی آئے۔








