اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانتداری کے ساتھ کی جائے گی، بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت کی اولین ترجیح ہوگا۔اپنے افتتاحی بیان میں چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام ملک کی آئینی تاریخ میں ایک تاریخی سنگ میل ہے، جو ریاستِ پاکستان میں …
آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانت داری سے کی جائے گی، بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت کی اولین ترجیح ہوگا، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانتداری کے ساتھ کی جائے گی، بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت کی اولین ترجیح ہوگا۔اپنے افتتاحی بیان میں چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام ملک کی آئینی تاریخ میں ایک تاریخی سنگ میل ہے، جو ریاستِ پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دیرپا وعدے سے قومی وابستگی کی تجدید کرتا ہے۔
انہوں نے اس ذمہ داری کو نہایت نازک اور اہم فریضہ قرار دیا اور واضح کیا کہ عدالت کا کردار صرف قضائی نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جو شہریوں کی زندگیوں، آزادیوں اور مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کو ایسا فورم بنایا جائے گا جو دیانت، غیر جانبداری اور علمی بصیرت کی اعلیٰ مثال ہو۔ عدالت میں آنے والے ہر معاملے کو آئین کی بالادستی، انصاف کے اصولوں اور عدالتی وقار کے ساتھ غیر معمولی احتیاط اور منصفانہ طریقے سے نمٹایا جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایسی عدالتی روایت تشکیل دینے کی خواہاں ہے جو مدلل فیصلوں، ادارہ جاتی وقار اور عوامی اعتماد پر استوار ہو۔ انہوں نے پہلے چیف جسٹس کی حیثیت سے اس منصب کو اپنے لئے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس نئے ادارے کی بنیادوں کے تعین میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔چیف جسٹس امین الدین خان نے امید ظاہر کی کہ وفاقی آئینی عدالت پاکستان میں آئینی بالادستی کی مضبوط محافظ ثابت ہوگی اور آنے والی نسلوں کے لیے عدل و انصاف کی روشن علامت بنے گی۔








