اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عالمی معیشتیں تیزی سے صاف توانائی، کم کاربن ترقی اور پائیدار صنعتی تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہیں، ایسے میں ایک منصفانہ، آب و ہوا سے محفوظ اور معاشی طور پر مسابقتی مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں اور عالمی سطح پر سبز مہارتوں میں سرمایہ کاری …
عالمی معیشتیں تیزی سے صاف توانائی، کم کاربن ترقی اور پائیدار صنعتی تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہیں، مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عالمی معیشتیں تیزی سے صاف توانائی، کم کاربن ترقی اور پائیدار صنعتی تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہیں، ایسے میں ایک منصفانہ، آب و ہوا سے محفوظ اور معاشی طور پر مسابقتی مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں اور عالمی سطح پر سبز مہارتوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں یو این کلائمیٹ سمٹ (کوپ 30) میں پاکستان پویلین پر منعقدہ اعلیٰ سطحی سائیڈ ایونٹ ’’ایک پائیدار پاکستان کے لیے سبز مہارتوں کی تعمیر‘‘ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ دنیا اقتصادی اور صنعتی نظاموں کی غیر معمولی ساختی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، جہاں کھربوں ڈالر قابل تجدید توانائی، موسمیاتی موافق انفراسٹرکچر، بیٹری ٹیکنالوجی، گرین ٹرانسپورٹ اور سرکلر اکانومی میں منتقل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں روزگار، منڈی میں مسابقت، عالمی تجارتی قوانین اور قومی ترقی کے ماڈلز کی نوعیت بدل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے موسمیاتی لحاظ سے سب سے زیادہ کمزور ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود نوجوان آبادی، کاروباری صلاحیت، بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم اور اس شعور کی وجہ سے بڑے مواقع رکھتا ہے کہ مستقبل کی معیشت سبز، جامع اور جدت پر مبنی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ سبز مہارتوں کی ترقی اب اختیار نہیں بلکہ لازمی ہو چکی ہے کیونکہ یہ موسمیاتی لچک میں اضافہ، صاف توانائی کی منتقلی، وسائل کے موثر استعمال اور عالمی سبز سرمایہ کاری تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے خبردار کیا کہ یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم جیسے نئے تجارتی اقدامات ممالک پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ سپلائی چینز کو کاربن سے پاک کریں اور ایسی افرادی قوت تیار کریں جو نئے معیار پر پورا اتر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترقی پذیر ممالک نے بروقت اپنی ورک فورس کو دوبارہ تربیت نہ دی تو عالمی منڈیاں سخت ماحولیاتی تقاضوں کے ساتھ پیچھے رہ جانے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ کم کاربن معیشت کی طرف منتقلی منصفانہ اور برابری پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ روایتی، فوسل فیول پر مبنی روزگار پر انحصار کرنے والے افراد متاثر ہونے کے بجائے مضبوط ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے سبز تبدیلی مزدوروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کے نئے راستے کھولے۔ موسمیاتی عمل کو انسانی وسائل کی ترقی کے ساتھ جوڑنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے موسمیاتی عمل کو قومی فریم ورک، پالیسیوں اور شعبہ جاتی منصوبوں میں شامل کیا ہے مگر صرف پالیسیاں کافی نہیں جب تک ان پر عمل درآمد کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت موجود نہ ہو جیسے کہ سولر اور ونڈ سسٹمز چلانے والے تکنیکی ماہرین، مضبوط انفراسٹرکچر بنانے والے انجینئرز، موسمیاتی حالات سے ہم آہنگ کاشتکاری جاننے والے کسان اور مقامی طور پر تیار ہونے والی موسمیاتی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والے ماہرین۔
ڈاکٹر ملک نے ترقیاتی شراکت داروں، مالیاتی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر موسمیاتی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو وسعت دیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں پر سرمایہ کاری طویل المدتی موسمیاتی اہداف اور معاشی جدت کے لیے بنیادی کلید ہے۔ اس سائیڈ ایونٹ میں پالیسی ساز، محققین، ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بینکس اور تکنیکی ماہرین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ترقی پذیر ممالک کس طرح موسمیاتی مہارتوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور محدود فراہمی کے درمیان پیدا ہوتے خلا کو پر کر سکتے ہیں۔ اجلاس کی نظامت مینجنگ پارٹنر سہیل اینڈ پارٹنرز ایل ایل پی اور پرو وائس چانسلر سہیل یونیورسٹی نے کی۔
ریاست پارا کے اٹارنی اور کوپ 30 کمیٹی کے صدر تاٹیلا پمپلونا نے کہا کہ صاف توانائی کی منتقلی کی کامیابی کے لیے قانون سازی اور گورننس فریم ورک میں انصاف، مساوات اور مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ورلڈ بینک کی ماحولیاتی مشیر پائولا رڈولفی نے ملٹی لیٹرل بینکوں کی جانب سے جاری مالی اور ادارہ جاتی معاونت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی اہداف اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک ممالک ابھرتی ہوئی سبز ویلیو چینز کے لیے درکار افرادی قوت کی منظم تربیت میں سرمایہ کاری نہ کریں۔
ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے مینجنگ ڈائریکٹر کریگ ہینسن نے خبردار کیا کہ دنیا کو 2050ء تک تقریباً دوگنی موسمیاتی مہارت رکھنے والی ورک فورس کی ضرورت ہو گی جبکہ موجودہ افرادی قوت کی فراہمی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی جو عالمی ڈی کاربنائزیشن کی ضروریات پوری کرسکے۔جی آئی زیڈ کی پروگرام ڈائریکٹر نادیہ ایمینوئل نے ہدفی تکنیکی تربیت، صنعت سے منسلک تعلیمی پروگراموں اور نوجوانوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا جو گرین سیکٹر کی بھرتیوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
تقریب میں پاکستانی ماہرین نے بھی موسمیاتی جدید ٹیکنالوجی جیسے ایگزا اسکیل موسمیاتی خطرات کی ماڈلنگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی کیڑوں کے کنٹرول اور جیو سپیشل ابتدائی وارننگ سسٹمز پر اپنی تحقیق پیش کی۔ مقررین نے بتایا کہ پاکستان کا بڑھتا ہوا ٹیک اور تحقیقاتی ایکو سسٹم ایسا حل پیدا کر رہا ہے جو آفات کی تیاری، عوامی صحت کے تحفظ اور وسائل کے موثر استعمال میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
رواں سال پاکستان نے سبز مہارتوں کے خلا کو پر کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں جن میں یونیسف اور مسلم ورلڈ لیگ کا 2025ء میں شروع کیا گیا گرین سکلز ٹریننگ پروگرام شامل ہے، جس کا مقصد ہزاروں محروم نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کو مستقبل کے روزگار کے مطابق موسمیاتی اور ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ وزارت نے حکومت، تعلیمی اداروں، صنعت اور ترقیاتی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
تجویز کردہ تعاون کے شعبوں میں گرین ٹیک حب کی توسیع، گرین سکلز کو قومی تعلیمی نظام میں شامل کرنا اور ایک ’’گرین یونیورسٹی‘‘ ماڈل کا قیام شامل ہے جو قومی سطح پر مرکز فضیلت کا کردار ادا کرے گا۔مقررین نے کہا کہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری نہ صرف موسمیاتی موافقت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور نئی نسل کو ایک منصفانہ، لچکدار اور پائیدار پاکستان کی تعمیر کے قابل بنانے کا راستہ بھی ہے۔








