ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی سطح پر مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے،وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک

بیلیم /اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لئے فوری، قابلِ بھروسہ اور منصفانہ مالی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی سطح پر مضبوط شراکت داری ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی ماحولیاتی سربراہی اجلاس کے موقع …

بیلیم /اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لئے فوری، قابلِ بھروسہ اور منصفانہ مالی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی سطح پر مضبوط شراکت داری ناگزیر ہو چکی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی ماحولیاتی سربراہی اجلاس کے موقع پر وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب میں کیا۔وزارت کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے بتایا کہ ان اجلاسوں سے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیر مملکت شزرہ منصب کھرل اور وزارت کی سیکرٹری عائشہ حمیرہ مورانی نے خطاب کیا۔ ان سیشنز میں متعدد ممالک کے مذاکرات کاروں، ترقیاتی اداروں، سائنس دانوں، تحقیقی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ تقریبات پاکستان کے ماحولیاتی چیلنجز، موافقت کے تقاضوں، جاری اصلاحاتی اقدامات اور عالمی ماحولیاتی نظام میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرنے کا موثر پلیٹ فارم ثابت ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکرٹری عائشہ حمیرہ مورانی نے پاکستان کی شرکت کی حکمت عملی کی پلاننگ اور رابطہ کاری کی قیادت کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کا موقف سائنسی شواہد، تکنیکی دلائل اور واضح پالیسی سمت کے ساتھ پیش ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پویلین ترقی پذیر ممالک کے لئے موافقت کی ضروریات، عالمی معاونت کے میکانزم، آفات کی پیشگی اطلاع، پانی کے نظام کی بحالی، ماحول دوست معیشت، ہنرمندی کی ترقی اور ادارہ جاتی بہتری پر مفید مکالمے کا محور بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جب سائنس، ادارے اور مالی وسائل ایک سمت میں کام کریں تو پائیدار لچک ممکن ہو جاتی ہے۔

اس موقع پر بین الاقوامی شرکانے کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی انصاف اور مالیاتی اصلاحات کے لئے موثر آواز بن کر ابھر رہا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی حمایت کے لئے عملی تجاویز پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے مالی اور تکنیکی وعدوں کی تکمیل کریں تاکہ ترقی پذیر ریاستیں پائیدار ترقی اور انسانی فلاح کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

مزید خبریں