فیصل آباد۔ 22 نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسزڈاکٹرملک مختاراحمد بھرتھ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان صحت عامہ کے شعبے میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے مضبوط، جامع اور دیرپا اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہیپاٹائٹس، شوگر اور دیگر غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مؤثر تدارک ممکن ہو سکے۔یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج دی یونیورسٹی آف فیصل آباد (مدینہ یونیورسٹی فیصل آباد) …
حکومت بیماریوں کی روک تھام کیلئے مضبوط اور جامع اقدامات کر رہی ہے، ڈاکٹر مختار بھرتھ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 22 نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسزڈاکٹرملک مختاراحمد بھرتھ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان صحت عامہ کے شعبے میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے مضبوط، جامع اور دیرپا اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہیپاٹائٹس، شوگر اور دیگر غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مؤثر تدارک ممکن ہو سکے۔یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج دی یونیورسٹی آف فیصل آباد (مدینہ یونیورسٹی فیصل آباد) کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادی میں سالانہ 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ صحت کے شعبے پر بڑھتا ہوا بوجھ حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے جس کا حل نہ صرف علاج بلکہ احتیاطی اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وزیر مملکت نے زور دیا کہ نئی نسل کے ڈاکٹرز کو اپنے پیشے میں علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی روک تھام، عوامی آگاہی اور صحت کے فروغ کے لیے بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک میں صحت کے نظام کو مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کامیاب گریجویٹس، ان کے والدین اور فیکلٹی ممبران کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آج کی ڈگری ایک ایسا ”پاسپورٹ“ ہے جو نہ صرف پاکستانی ڈاکٹرز کو عالمی سطح پر قابل قبول بناتا ہے بلکہ انہیں دنیا کے کسی بھی ملک میں اپنے علم اور مہارت کے مظاہرے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ میں پاکستانی ڈاکٹرز اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں جو پاکستان کے مضبوط تعلیمی نظام، میرٹ پر مبنی فلٹرز اور تعلیم کے اعلیٰ معیار کا عملی ثبوت ہے۔وزیر مملکت نے گریجویٹس سے کہا کہ وہ اپنے والدین کو کھڑے ہو کر خراج تحسین پیش کریں کیونکہ آج کی کامیابی میں سب سے بڑا حصہ والدین کی قربانیوں، محنت، حوصلہ افزائی اور دعاؤں کا ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور فیکلٹی ممبران کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے طلبہ کو ایک مقدس، ذمہ دار اور انسانی خدمت سے بھرپور پیشہ سنبھالنے کے قابل بنایا۔
ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ ڈاکٹر بننے کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے کیونکہ قوم، والدین، اساتذہ اور سب سے بڑھ کر مریض آپ سے غیر معمولی توقعات رکھتے ہیں۔انہوں نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق خوش اخلاقی اور ہمدردی ڈاکٹر کے پیشے کی بنیاد ہونی چاہیے اور یہ اخلاقی اصول مریضوں کی بہتر دیکھ بھال اور معاشرتی خدمت میں لازمی کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیرمملکت نے پاکستان میں صحت کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں اورشوگر، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر غیر متعدی امراض خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی، حفاظتی اقدامات اور بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ڈاکٹر مختار بھرتھ نے بتایا کہ پی ایم ڈی سی کے موجودہ نصاب میں علاج پر 99 فیصد توجہ دی جاتی رہی ہے تاہم آنے والے وقت میں احتیاطی اقدامات پر خصوصی فوکس کیا جائے گا تاکہ ڈاکٹرز نہ صرف مریضوں کا علاج کریں بلکہ بیماریوں کی روک تھام اور صحت عامہ کے فروغ میں بھی فعال کردار ادا کریں۔تقریب کے اختتام پر وزیر مملکت نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا اور گریجویٹس کو ہدایت کی کہ وہ خدمت، علم، اخلاق اور انسانیت کو اپنے پیشے کی بنیاد بنائیں۔








