عوام نے ضمنی انتخابات میں بائیکاٹ کی کال مسترد کر دی، کسی کوحق رائے دہی سے روکنا آئینی حق کی خلاف ورزی ہے،وزیرمملکت طلال بدر چوہدری

فیصل آباد ۔ 23 نومبر (اے پی پی):وزیرمملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال بدر چوہدری نے کہا ہے کہ آج ہونے والے ضمنی انتخابات کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ عوام نے بائیکاٹ کی کال کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل سے اپنی وابستگی ثابت کر دی۔ این اے۔96 میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی …

فیصل آباد ۔ 23 نومبر (اے پی پی):وزیرمملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال بدر چوہدری نے کہا ہے کہ آج ہونے والے ضمنی انتخابات کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ عوام نے بائیکاٹ کی کال کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل سے اپنی وابستگی ثابت کر دی۔ این اے۔96 میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ووٹرز کو پولنگ سے دور رکھنے کی کوشش کے باوجود پنجاب کے عوام نے بھرپور شرکت کر کے جمہوری روایت کو مضبوط بنایا۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں دو مختلف اصول کیوں اپنائے گئے،خیبر پختونخوا میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی جبکہ پنجاب میں بائیکاٹ کا بیانیہ پھیلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو اپنے بنیادی حق رائے دہی سے روکنا آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور الیکشن کمیشن اس ”جمہوری حق پر حملے“ کا نوٹس کب لے گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مختلف نوعیت کے نوٹسز جاری ہوئے ہیں جن میں ایک ان کو بھی ملا ، مسلم لیگ (ن) تمام نوٹسز کا جواب آئینی اور قانونی طریقے سے دے گی۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی مہم چلا رہی ہے۔اگر کوئی جماعت خود کو عوامی نمائندہ کہتی ہے تو پھر وہ آئینی حق کے بائیکاٹ کی کال کس منطق کے تحت دے سکتی ہے۔وزیرمملکت نے کہا کہ آج عوام نے ووٹ کسی سیاسی نعرے یا احتجاجی مہم کے جواب میں نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی اور وزیراعظم شہباز شریف کی حکومتی پالیسیوں کے اعتراف میں ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ جڑانوالہ سمیت مختلف علاقوں میں ٹرن آئوٹ روایتی ضمنی انتخابات سے زیادہ دکھائی دیا اور کسی ایک پولنگ اسٹیشن سے بھی عملی بائیکاٹ کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

ٹرن آئوٹ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حتمی اعدادوشمار بعد میں آئیں گے مگر ابتدائی مشاہدات عام ضمنی انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ووٹر شرکت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور پاک فوج کے دستے الیکشن کمیشن کے آپریشنل کنٹرول میں تعینات رہے اور کہیں سے بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔پولنگ اسٹیشنز کے اندر ووٹرز کی ویڈیوز بنانے جیسے معمولی اور انفرادی نوعیت کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے چھوٹے واقعات پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پولنگ ایجنٹس موجود تھے، بیلٹ کی رازداری برقرار رہی اور انتخابی ایس او پیز پر مجموعی طور پر مکمل عمل کیا گیا۔اگر کسی نے ضابطہ خلاف ورزی کی ہے تو کارروائی ہونی چاہیے لیکن مجموعی عمل منظم، صاف اور پرامن ہے۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ”اصل خلاف ورزی“ یعنی انتخابات کے بائیکاٹ کی کوششوں پر توجہ دے کیونکہ یہی اقدام جمہوریت کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی اور یہ ثابت کرے گی کہ انتخابی مہم یا پولنگ کے دوران کسی قسم کی قانونی یا ضابطہ جاتی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

وزیرمملکت نے کہا کہ پنجاب کو کسی بھی سیاسی امتیازی سلوک کا نشانہ نہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں سے متاثر ہوئے بغیر جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں اور بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کرانہوں نے اس وابستگی کا عملی ثبوت دیا ہے۔

مزید خبریں