1971 میں بھارت اور مکتی باہنی کی بربریت سے معصوم بہاریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان

اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی تاریخ کا سیاہ باب ہے،خطہ میں دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی میں بھارتی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔تفصیلات کے مطابق1971ء میں بھارت نے مکتی باہنی جیسے دہشتگرد گروہ کو محب وطن پاکستانیوں کے خلاف استعمال کیا۔دہشتگرد مکتی باہنی اور بھارتی فوج نے پاکستان کی بہاری کمیونٹی کے نہتے لوگوں پر وحشیانہ حملے …

اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی تاریخ کا سیاہ باب ہے،خطہ میں دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی میں بھارتی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔تفصیلات کے مطابق1971ء میں بھارت نے مکتی باہنی جیسے دہشتگرد گروہ کو محب وطن پاکستانیوں کے خلاف استعمال کیا۔دہشتگرد مکتی باہنی اور بھارتی فوج نے پاکستان کی بہاری کمیونٹی کے نہتے لوگوں پر وحشیانہ حملے کیے،بہاری کمیونٹی کے شیخ مقیم جیسے بہادر افراد نے پاکستان کی عزت و عظمت کیلئے سب کچھ قربان کر دیا۔

شیخ مقیم اپنی آب بیتی سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ25 مارچ 1971 کو بنگالیوں نے بغاوت کی اور مکتی باہنی اور انڈین آرمی کے ساتھ مل گئے،دہشتگرد گروہ مکتی باہنی، بھارتی فوج کیساتھ مل کر مشرقی پاکستان خصوصاً بہاریوں پر حملہ آور ہوا۔انہوں نے کہاکہ مکتی باہنی اور بھارتی فوج نے بہاریوں کی املاک اور آبادیوں پر حملہ کر کے درندگی سے قتلِ عام کیا، مشرقی پاکستان کے 17 میں سے 14 اضلاع میں رہائش پذیر تمام بہاریوں کو شہید کر دیا گیا، کنجن ندی، بوگرا، ممند سنگھ، ڈھاکہ، راج شاہی اور پبنا آج بھی بہاریوں کے عزم کے گواہ ہیں۔

شیخ مقیم نے کہاکہ بھارتی میڈیا نے بھارتی فوج کی بربریت کا نشانہ بننے والے بہاری شہداء کی لاشوں کو بنگالی دکھا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کیا، بھارتی فوج اور دہشتگرد مکتی باہنی نے ساڑھے پانچ لاکھ بہاریوں کو وحشیانہ طور پر قتل کیا،پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کیلئے ساڑھے پانچ لاکھ بہاریوں کے قتل کا الزام پاکستانی فوج پر لگایا گیا، 1971 کی جنگ، بھارت کی سفاک فوج اور دہشتگرد گروہ مکتی باہنی کے خونریز اور مکروہ چہروں کی ہولناک داستان ہے۔

مزید خبریں