اسلام خواتین کے ساتھ حسن سلوک اور نرمی سے پیش آنے اور انہیں بنیادی حقوق فراہم کرنے کا درس دیتا ہے، سپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اسلام خواتین کے ساتھ حسن سلوک اور نرمی سے پیش آنے اور انہیں بنیادی حقوق فراہم کرنے کا درس دیتا ہے، اسلام میں خواتین کو نہایت عزت و احترام سے نوازا گیا اور ان پر تشدد اور جبر کی سخت ممانعت کی گئی ہے، ایک مہذب اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے خواتین کو سماجی …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اسلام خواتین کے ساتھ حسن سلوک اور نرمی سے پیش آنے اور انہیں بنیادی حقوق فراہم کرنے کا درس دیتا ہے، اسلام میں خواتین کو نہایت عزت و احترام سے نوازا گیا اور ان پر تشدد اور جبر کی سخت ممانعت کی گئی ہے، ایک مہذب اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے خواتین کو سماجی و اقتصادی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کیا۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور ان پر ہونے والے تشدد کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے ریاستی اداروں، سول سوسائٹی، کمیونٹیز اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کو اس مقصد کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے، انہیں سماجی و معاشی انصاف کی فراہمی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمان نے خواتین کے تحفظ، مقام کار پر ہراسانی کے خاتمے، وراثتی حقوق کی فراہمی، گھریلو تشدد کی روک تھام اور فوری انصاف کے لیے اہم قانون سازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے سی ای ڈی اے ڈبلیو کنونشن کا باقاعدہ رکن ہے جس کے تحت ریاست خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز اور تشدد کے خاتمے، ان کے حقوق کے تحفظ اور مساوی مواقع کی فراہمی کی پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا وویمنز پارلیمانی کاکس ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو ملک میں یقینی بنانے کے لیے قانون سازی اور آگاہی کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ عورتوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے معاشرتی رویوں میں تبدیلی، متعلقہ قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانا اور خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارلیمان خواتین کے حقوق، ان کے تحفظ اور انہیں سماجی و معاشی طور پر مزید با اختیار بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزید خبریں