اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کی ہوتی ہے، دھاندلی کا الزام تب لگاتے جب آپ میدان میں ہوتے، اپوزیشن کسی انتخابی عمل میں شریک نہیں ہوئی تو دھاندلی کا الزام کیسا؟ پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے جس نے ہر موقع پر بھرپور ساتھ دیا۔ پیر کو یہاں ”مزاج نیوز“ کی افتتاحی …
سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کی ہوتی ہے، دھاندلی کا الزام تب لگاتے ہیں جب آپ میدان میں ہوں، اپوزیشن انتخابی عمل میں شریک نہیں ہوئی تو دھاندلی کا الزام کیسا؟ عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کی ہوتی ہے، دھاندلی کا الزام تب لگاتے جب آپ میدان میں ہوتے، اپوزیشن کسی انتخابی عمل میں شریک نہیں ہوئی تو دھاندلی کا الزام کیسا؟ پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے جس نے ہر موقع پر بھرپور ساتھ دیا۔ پیر کو یہاں ”مزاج نیوز“ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مثبت رویئے سے مسائل کا حل ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز وقت کی ضرورت ہیں، ان کی تیزی سے ترقی ارتقائی عمل کا حصہ ہے، حکومت ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے لئے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مل کر ایک ایسوسی ایشن تشکیل دیں تاکہ ایڈیٹوریل پالیسی اور کوڈ آف ایتھکس کا باضابطہ نظام قائم ہو سکے۔ وفاقی وزیر نے ”مزاج نیوز“ کی جانب سے سینئر صحافیوں پر مشتمل ایڈیٹوریل بورڈ کے قیام کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس سے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا احساس بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل میڈیا کو آفیشل حیثیت دینے کے لئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ اسے سپورٹ بھی کیا جا سکے اور دونوں جانب سے باقاعدہ ایڈیٹوریل پالیسی اور کوڈ آف ایتھکس پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کے آئی ٹی پروفیشنلز کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور حالیہ جنگ میں روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا نے بھی فرنٹ لائن کردار ادا کیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ریاست کی مضبوطی اور ملکی وقار کے لئے ضروری ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا ایسا مؤثر ٹول بنے جو دشمن کے پراپیگنڈے کا بروقت اور مضبوط جواب دے۔ ہمارا خواب ہے کہ پاکستان کا ڈیجیٹل میڈیا اتنا مضبوط ہو کہ دنیا کہے کہ پاکستان کے ڈیجیٹل میڈیا سے پنگا نہ لینا، یہ ریاست کے معاملے پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہماری اہم اتحادی جماعت ہے، ان کی ہر سطح پر سپورٹ رہی ہے اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
مظفرگڑھ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی ضمنی انتخاب میں کامیابی پر انہوں نے پیپلز پارٹی کو مبارکباد بھی پیش کی۔ وزارت اطلاعات کے ڈیجیٹل اقدامات بارے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا سرکاری ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا جو پہلے موجود نہیں تھا۔ اب پاکستان ٹی وی لانچ کیا جا چکا ہے جبکہ آذربائیجان نے اپنے لوگوں کو ٹریننگ اور ہمارا سسٹم دیکھنے کے لئے پاکستان بھیجنے کی بات کی ہے تاکہ وہ وہاں بھی ایسا نظام سرکاری طور پر وضع کر سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈی ایٹ وزرائے اطلاعات نے پاکستان کے پیش کردہ فیکٹ چیکنگ نظام اور خطے میں مشترکہ انسدادِ غلط معلومات پلیٹ فارم کے قیام کی تجویز کی توثیق کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سیاست میں ہمیشہ دروازے کھلے رہتے ہیں، ایاز صادق نے فلور آف دی ہائوس بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والی پوسٹیں مسلسل سامنے آ رہی ہیں، یہ عمل کون کر رہا ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دشمن ملک خصوصاً بھارت کی جانب سے افواج پاکستان اور عسکری قیادت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے لیکن اگر یہی مہم ملک کے اندر سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے چلائی جائے تو اس کے پیچھے کس کا ایجنڈا ہو سکتا ہے؟
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کی افہام و تفہیم کی بات مثبت ہے، ہم نے اس کا خیرمقدم بھی کیا تاہم ماضی میں بننے والی کمیٹی کو چھوڑ کر کون گیا؟ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیانیہ کی جنگ میں پاکستان نے سفارتی اور عسکری محاذ پر نمایاں برتری ٹیم ورک کے تحت حاصل کی جو سویلین حکومت اور ریاستی اداروں کی مضبوط شراکت داری کا نتیجہ ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جماعت اسلامی کا اپنا وژن ہے، ان کے احتجاج ہمیشہ پرامن رہے ہیں۔ تنقید انہوں نے ضرور کی مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر کی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے بڑا جلسہ کر کے مثال قائم کی، وہاں ایک پتہ تک نہیں ٹوٹا اور کسی سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی جانب سے صحافیوں اور عوامی نمائندوں کا گھیرائو کرنا، کیمرہ لے کر پیچھے پڑ جانا درست روایت نہیں، جواب دینے والا کہیں زیادہ سخت جواب دے سکتا ہے، اس روش کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے ایک حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک خاتون صحافی کی ٹرولنگ کے معاملے پر نصف گھنٹے میں نوٹس لیا۔ متعلقہ اکائونٹ نے 24 گھنٹے کے اندر غیر مشروط معافی مانگی۔ ایسی مثالیں سیاسی قیادت کو خود قائم کرنی ہوتی ہیں۔ فیک نیوز کی روک تھام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت دو طرح کے لوگوں میں تقسیم ہے، ایک ڈیجیٹل نیٹیوز ہیں جو ڈیجیٹل دور میں پیدا ہوئے، ایک ڈیجیٹل امیگرنٹس ہیں جو پیدا پہلے ہوئے اور ڈیجیٹل دنیا میں ہجرت کرکے آئے، پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا تک ارتقاء کا عمل ایک نظام کے تحت ہوا، ملک میں پیمرا بنی، انہی اداروں نے چینلز کھولے جن کے اخبارات پہلے سے موجود تھا، اس سے بڑا اچھا نظام بن گیا۔
دوسرا ارتقاء الیکٹرانک سے ڈیجیٹل میڈیا میں ہوا جو کسی نظام کے تحت نہیں بلکہ یکدم ہوا۔ انہوں نے تجویز دی کہ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کی ایسوسی ایشن تشکیل دے کر قواعد و ضوابط مرتب کئے جائیں تاکہ فیک نیوز کی روک تھام میں معاونت ملے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں ڈالر پاکستان کے اندر بیٹھ کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کمائے جا رہے ہیں لیکن قومی خزانے کو ایک روپیہ بھی نہیں ملتا، اس لئے رجسٹریشن اور ضابطہ سازی ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ایسا ٹی وی چینل نہیں جس کے اشتہارات بند ہوں، وہ ہمارا بیانیہ چلائیں یا نہ چلائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ ٹی وی چینلز ایک نظام کے تحت رجسٹرڈ ہیں اور رولز پورا کرتے ہیں، ان کے پاس لائسنس ہیں تو یہ اہل ہیں۔ جرنلسٹس پروٹیکشن قانون کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ خیبر یونین آف جرنلسٹس، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس، پنجاب یونین آف جرنلسٹس، سندھ یونین آف جرنلسٹس اور پی ایف یو جے کے گروپس اپنی نامزدگیاں دیں، حکومت انہیں شامل کرلے گی۔
اپوزیشن کی جانب سے ضمنی انتخاب میں دھاندلی سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کی ہوتی ہے، دھاندلی کا الزام تب لگاتے جب آپ میدان میں ہوتے، جب آپ کسی انتخابی عمل میں شریک نہیں ہیں تو دھاندلی کا الزام کیسا؟








