سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس، 30 جولائی کے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں 30 جولائی 2025 کے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر حالیہ تباہ کن سیلابوں کے تناظر میں سیلابی پانی کے موثر انتظام، پانی کے تحفظ، زیر زمین پانی کی بحالی کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں 30 جولائی 2025 کے اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر حالیہ تباہ کن سیلابوں کے تناظر میں سیلابی پانی کے موثر انتظام، پانی کے تحفظ، زیر زمین پانی کی بحالی کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر اور بارش کے پانی کے ذخیرے کے حوالے سے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی کا مقصد مستقبل میں سیلابی نقصانات میں کمی کے لیے پائیدار حل اور زیر زمین پانی کے تیزی سے خاتمے سے نمٹنے کی جامع حکمت عملی تیار کرنا تھا۔

اجلاس کی صدارت سینیٹر شہادت اعوان نے کی جبکہ اس موقع پر سینیٹر سعید احمد ہاشمی اور سینیٹر پونجو بھیل بھی موجود تھے ۔کمیٹی کےچیئرمین نے دریا کے کناروں پر قبضہ مافیا کے مسئلے کے حل میں متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا اور سیکریٹری وزارت آبی وسائل کو ہدایت کی کہ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان موثر رابطہ یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے سپارکو کی جانب سے قبضہ مٹائو مہم کی تصدیقی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سخت نوٹس لیا۔ چیئرمین کمیٹی نے ارکان کی باہمی رضامندی سے قرار دیا کہ سپارکو کی عدم تعمیل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی استحقاق شکنی تصور کیا جائے گا۔

سینیٹر پونجو بھیل نے بھی دریا کے کناروں پر قبضوں کے مسئلے کی سنگینی اور سیلاب کے دوران ان کے خطرناک نتائج کی نشاندہی کی۔کمیٹی کےچیئرمین نے ہدایت کی کہ قبضوں کے مکمل خاتمے سے متعلق رپورٹ آئندہ اجلاس میں ہر صورت پیش کی جائے۔کمیٹی کےچیئرمین نے مزید ہدایت کی کہ وزارت آبی وسائل کے سیکریٹری آئندہ اجلاس میں متعلقہ تمام محکموں کے سربراہان کی موجودگی یقینی بنائیں اور پچھلے اجلاس کے شرکاء بھی لازمی شریک ہوں تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔نائی گاج ڈیم منصوبے سے متعلق سیکرٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے پر آئندہ اجلاس میں وزیر آبی وسائل کی موجودگی میں مزید غور کیا جائے گا۔کمیٹی نے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان (این ایف پی پی) کے پچھلے مراحل پر بھی بریفنگ لی جبکہ NFPP-IV پر گفتگو کو اس کی مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) سے منظوری کے التوا کے باعث موخر کر دیا گیا۔واپڈا نے آبی ذخیرہ کرنے کے جاری منصوبوں اور آئندہ حکمت عملی پر بریفنگ دی۔

کمیٹی نے سیلابی پانی کی نگرانی اور بروقت وارننگ کے نظام کے طور پر ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کا بھی جائزہ لیا۔ واپڈا کے نمائندے نے 45 فلڈ ٹیلی میٹری گیجز کی تنصیب پر اطمینان ظاہر کیا۔چیئرمین کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ اضافی 457 ٹیلی میٹری سسٹمز کی تنصیب میں تیزی لائی جائے تاکہ سیلاب سے متعلق پیشگی انتباہی نظام مزید مضبوط ہو سکے۔

اجلاس میں صوبائی نمائندگان نے چھوٹے اور درمیانے ڈیمز سے متعلق منصوبوں پر بھی بریفنگ دی۔ بارش کے پانی کے ذخیرے اور زیر زمین پانی کی سطح میں اضافے کے حوالے سے چیئرمین نے صوبوں کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں مستقبل کے منصوبے پیش کرنے کی ہدایت کی۔چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ زیر زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کی ذخیرہ کاری پاکستان اور اس کے عوام کے لیے نہایت اہم معاملات ہیں جن پر آئندہ اجلاس میں مزید تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

مزید خبریں