امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیش رو جوبائیڈن کے دور میں ”آٹو پین“ سے دستخط شدہ تمام دستاویزات منسوخ کر دیں

واشنگٹن ۔29نومبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور صدارت کے دوران ”آٹو پین“ سے دستخط شدہ تمام سرکاری دستاویزات منسوخ ہو گئی ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "جو بائیڈن اس وقت نیند میں تھے جب انہوں نے خودکار دستخطی نظام کے ذریعے تقریباً 92 فیصد سرکاری …

واشنگٹن ۔29نومبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور صدارت کے دوران ”آٹو پین“ سے دستخط شدہ تمام سرکاری دستاویزات منسوخ ہو گئی ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "جو بائیڈن اس وقت نیند میں تھے جب انہوں نے خودکار دستخطی نظام کے ذریعے تقریباً 92 فیصد سرکاری کاغذات منظور کیے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تمام دستاویزات اب کالعدم ہیں، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ تمام ایگزیکٹو آرڈرز اور ہر وہ حکم نامہ ختم کر رہے ہیں جس پر جو بائیڈن کے خود ہاتھ سے دستخط موجود نہیں، کیونکہ خودکار دستخط استعمال کرنے والوں نے یہ کام غیر قانونی طور پر کیا۔ٹرمپ بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ جو بائیڈن نے صدارتی معافی نامے، ایگزیکٹو احکامات اور دیگر سرکاری کارروائیاں خودکار دستخطی نظام کے ذریعے منظور کیں۔

اگرچہ سابق صدور بھی بعض اوقات دستخطی آٹومیشن استعمال کر چکے ہیں تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کے دور میں اس نظام کے استعمال سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر اہل نہیں تھے اور وہ خود وائٹ ہاؤس نہیں چلا رہے تھے۔قانونی ماہر ایڈ وِیلن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ٹرمپ کو مکمل اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایگزیکٹو آرڈر کو منسوخ کریں چاہے اس پر جو بائیڈن نے خود دستخط کیے ہوں یا خودکار دستخطی نظام نے۔

امریکی وزارت انصاف نے2005 میں واضح کیا تھا کہ صدر کے لیے ہر قانون پر ہاتھ سے دستخط کرنا ضروری نہیں اور وہ کسی ذمہ دار شخص کو ہدایت دے سکتا ہے کہ صدر کے دستخط لگا دے خواہ وہ خودکار طریقے سے ہی کیوں نہ ہوں۔2011 میں نیویارک ٹائمز نے بتایا تھا کہ براک اوباما یورپ میں قیام کے دوران خودکار دستخطی نظام سے قانون منظور کرنے والے پہلے صدر تھے۔

اپنے دور صدارت کے اختتام پر جو بائیڈن نے کئی افراد کو معافی دی جن میں ان کا بیٹا ہنٹر شامل تھا اور وہ کانگریس کے ارکان بھی جنہوں نے ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کیں، اس کے علاوہ وہ فوجی کمانڈر جس نے ان پر تنقید کی تھی۔ اس کے علاوہ اور ناقدین میں ان کی کورونا وباسے نمٹنے والی حکمت عملی مرتب کرنے والے ڈاکٹر انتھونی فاچی بھی شامل تھے۔

مزید خبریں