ریاض۔17دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب نے نوجوانوں کے مصنوعی ذہانت کے عالمی مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پہلانمبر حاصل کرتےہوئے مجموعی طور پر 26 اعزازات اپنے نام کیے۔العربیہ اردو کے مطابق اس مقابلے میں سعودی عرب نے پہلی ،امریکا نے دوسری اور انڈونیشیا نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ کینیڈا اور پاکستان مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر رہے۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر مصنوعی …
سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کا عالمی مقابلہ جیت لیا

مزید خبریں
ریاض۔17دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب نے نوجوانوں کے مصنوعی ذہانت کے عالمی مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پہلانمبر حاصل کرتےہوئے مجموعی طور پر 26 اعزازات اپنے نام کیے۔العربیہ اردو کے مطابق اس مقابلے میں سعودی عرب نے پہلی ،امریکا نے دوسری اور انڈونیشیا نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ کینیڈا اور پاکستان مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر رہے۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے کردار اور مسلسل کامیابیوں کا تسلسل ہے۔ مقابلے کے موجودہ مرحلے میں دس ہزار سے زائد جدید منصوبے پیش کیے گئے جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر مبنی تھے۔
ان منصوبوں میں انسان اور کرۂ ارض کے مستقبل سے جڑے موضوعات شامل تھے جن میں موسمیاتی تبدیلی ،صحت ،تعلیم، ثقافت اور سماجی جدت شامل ہیں۔یہ منصوبے چار بنیادی شعبوں میں پیش کیے گئے جن میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی نمائش، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فن پارے ،مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیوز اور بڑے لسانی ماڈلز کا شعبہ شامل تھا۔سعودی عرب نے 26 اعزازات کے ذریعے پہلا مقام حاصل کیا جن میں مختلف تعلیمی مراحل سے تعلق رکھنے والے 18 ہزار سے زائد طلبہ نے حصہ لیا۔ ان طلبہ نے 11 تمغے جیتے اور 163 منصوبے تیار کیے جو سخت مقابلے کے بعد فائنل مرحلے تک پہنچے۔
دوسرے نمبر پر امریکہ نے 24 اعزازات حاصل کیے جبکہ انڈونیشیا نے سات اعزازات کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد کینیڈا اور پاکستان نے پانچ پانچ اعزازات جیتے۔ بھارت اور قطر نے تین تین اعزازات حاصل کیے جبکہ آرمینیا، پرتگال ،نائیجیریا ،چین، یونان اور جنوبی کوریا نے دو دو اعزازات اپنے نام کیے۔برطانیہ ،میکسیکو، ہانگ کانگ، بنگلہ دیش، مصر ،تیونس، کینیا، لیبیا اور ایران نے ایک ایک اعزاز حاصل کیا۔سعودی عرب کے حاصل کردہ 26 اعزازات مختلف شعبوں میں تھے جن میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز ،بڑے لسانی ماڈلز اور ثقافتی منصوبے شامل ہیں جو خاص طور پر نجدی ورثے کے گرد گھومتے تھے۔
اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فنون کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب مصنوعی ذہانت سے متعلق متعدد عالمی اشاریوں میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ ان میں اس شعبے کی ترقی روزگار کے مواقع ماہر افرادی قوت کی شمولیت جدید اے آئی ماڈلز میں عالمی درجہ بندی اور عوامی آگاہی شامل ہے جو 2025 کے دوران نمایاں طور پر بہتر ہوئی۔
یاد رہے کہ WAICY مقابلہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا کے بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں شمار ہوتا ہے جس کا مقصد طلبہ کی اختراعی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور مستقبل کے چیلنجز کا حل تلاش کرنا ہے۔ رواں سال 103 ممالک سے ایک لاکھ 32 ہزار طلبہ فائنل مرحلے تک پہنچے جبکہ چار ہزار سے زائد اساتذہ نے نگرانی اور رہنمائی میں فعال کردار ادا کیا۔








