کراکس۔17دسمبر (اے پی پی):وینزویلا کی حکومت نے امریکا کی جانب سے ملک آنے اور جانے والے تمام پابندی زدہ تیل بردار جہازوں کی مکمل ناکہ بندی کی دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور وہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھائے گی۔ شنہوا کے مطابق وینزویلا کی حکومت نے گزشتہ روز سرکاری بیان میں کہا کہ …
وینزویلا کی بحری ناکہ بندی کی امریکی دھمکی کی مذمت

مزید خبریں
کراکس۔17دسمبر (اے پی پی):وینزویلا کی حکومت نے امریکا کی جانب سے ملک آنے اور جانے والے تمام پابندی زدہ تیل بردار جہازوں کی مکمل ناکہ بندی کی دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور وہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھائے گی۔ شنہوا کے مطابق وینزویلا کی حکومت نے گزشتہ روز سرکاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے خلاف ایک سنگین اور بے رحمانہ دھمکی دی ہے، جو بین الاقوامی قانون، آزاد تجارت اور جہاز رانی کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ب
یان میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل، زمین اور معدنی وسائل کو امریکی ملکیت قرار دیا اور ان کی فوری حوالگی کا مطالبہ کیا جبکہ ایک بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی کوشش کی جس کا مقصد وینزویلا کی قوم کو اس کی قدرتی دولت سے محروم کرنا ہے۔ وینزویلا نے اپنے قدرتی وسائل پر اپنی خودمختاری اور بحیرۂ کیریبین اور بین الاقوامی پانیوں میں آزاد جہاز رانی اور تجارت کے حق کی توثیق کی۔ بیان میں کہا گیا کہ وینزویلا اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سختی سے عمل درآمد کرے گا۔ اس دھمکی کے جواب میں اقوام متحدہ میں وینزویلا کے مستقل نمائندہ فوری طور پر باضابطہ شکایت درج کرائیں گے۔
بیان میں امریکی عوام اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس دھمکی کو مسترد کریں۔ مزید کہا گیا کہ وینزویلا کبھی دوبارہ نوآبادیاتی حیثیت قبول نہیں کرے گا اور اپنی آزادی اور خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے وینزویلا آنے اور جانے والے تمام پابندی زدہ تیل بردار جہازوں کی مکمل ناکہ بندی کا حکم دیا ہے۔
اس کے جواب میں وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسے روڈریگز نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی کوشش، جس کے تحت پابندی زدہ تیل بردار جہازوں کو وینزویلا میں داخل ہونے یا نکلنے سے روکا جائے، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔








