اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ کی مشیر اور آئی ایس سی کی سفیر مِصباح کھَر نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات پر مبنی کتاب “نیو ازبکستان: صدر شوکت مرزیایوف کا راستہ” کی تقریبِ رونمائی میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط، ہمہ جہت اور دیرپا دوطرفہ تعلقات کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مِصباح کھَر نے پاکستان …
چیئرمین سینیٹ کی مشیر مِصباح کھَر کی پاکستان۔ازبکستان تعلقات پر کتاب کی تقریبِ رونمائی میں شرکت
اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ کی مشیر اور آئی ایس سی کی سفیر مِصباح کھَر نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات پر مبنی کتاب “نیو ازبکستان: صدر شوکت مرزیایوف کا راستہ” کی تقریبِ رونمائی میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط، ہمہ جہت اور دیرپا دوطرفہ تعلقات کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مِصباح کھَر نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین سفارتکاری، تجارت، ثقافت، تعلیم اور پارلیمانی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کتاب کی رونمائی ایک بامعنی موقع ہے جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی تفہیم کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔انہوں نے کتاب کو ازبکستان میں صدر شوکت مرزیایوف کی قیادت میں ہونے والی نمایاں اصلاحات اور عوام دوست وژن کی بہترین عکاس قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ازبکستان کی اس تبدیلی کو بہتر طور پر سمجھنے سے تجارت، علاقائی رابطہ کاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید گہرا ہوگا۔مِصباح کھَر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یہ کتاب پالیسی سازوں، کاروباری حلقوں اور طلبہ کے لئے ایک قیمتی علمی ماخذ ثابت ہوگی اور پاکستان–ازبکستان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مشترکہ جیو اکنامک وژن کو تقویت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر تعاون اور مسلسل مکالمہ دوطرفہ تعلقات کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد دے گا اور علاقائی رابطہ کاری اور استحکام کے فروغ کا باعث بنے گا۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے ازبکستان سے آئے ہوئے معزز مہمانوں اور شرکاء کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور ادارہ جاتی روابط کے استحکام اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ مِصباح کھَر نے تعلیمی تبادلوں، پالیسی پر مبنی تحقیق اور پارلیمانی سطح پر قریبی تعاون کے ذریعے دوطرفہ روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوششیں پاکستان اور ازبکستان کی دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط کریں گی۔تقریبِ رونمائی میں سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم، محققین اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جنہوں نے پاکستان–ازبکستان تعلقات کے حوالے سے آگاہی اور تفہیم بڑھانے کے لئے اس اقدام کو سراہا۔









