ماسکو۔17دسمبر (اے پی پی):روس نےکہا ہے کہ وہ افریقی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گا جبکہ اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لئے وہ پہلے ہی ان ممالک سے تعاون کر رہا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق یہ بات روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ورشینن نے انٹرویو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ روسی فیڈریشن کے …
افریقی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد کریں گے،روس

مزید خبریں
ماسکو۔17دسمبر (اے پی پی):روس نےکہا ہے کہ وہ افریقی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گا جبکہ اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لئے وہ پہلے ہی ان ممالک سے تعاون کر رہا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق یہ بات روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ورشینن نے انٹرویو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ روسی فیڈریشن کے 2023 کے خارجہ پالیسی تصور میں متعین اہداف کے مطابق خصوصاً سکیورٹی معاونت کی فراہمی کے ذریعے افریقی ممالک کی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ اور افریقی براعظم میں مسلح تنازعات کے پُرامن تصفیے اور حل میں معاونت کے تناظر میں ہم افریقی ریاستوں کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم انہیں اندرونی اور بیرونی خطرات، خاص طور پر دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ افریقہ کی سماجی و اقتصادی، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی ترقی کے لئے ایک پائیدار نظامِ تعمیر کے امکانات کا تصور بھی امن اور سلامتی کے شعبے میں براعظم کو درپیش سنگین چیلنجز کے فوری حل کے بغیر مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعی سنگین مسائل موجود ہیں اور افریقہ کی صورتحال پر ان کے اثرات کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مسائل خاص طور پر دہشت گردی اور انتہاپسندی، سرحد پار جرائم، اندرونی سیاسی بحران، نسلی تنازعات اور ریاستوں کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر صحارا۔ساحل خطے، افریقہ کے ہارن اور گریٹ لیکس کے علاقے میں صورتحال زیادہ سنگین ہے۔انہوں نے کہا کہ روس اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے کے بحران زدہ علاقوں میں مؤثر اور دیرپا حل بنیادی طور پر اسی صورت ممکن ہے جب “افریقی اس عمل میں مرکزی کردار ادا کریں اور یہ مکمل طور پر ان کے اپنے مفادات میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ہمارے مؤقف کی بنیاد افریقی ریاستوں کی خودمختاری کے غیر مشروط احترام، باہمی احترام اور برابری کے اصولوں، تیار شدہ حل مسلط نہ کرنے اور صرف انہی شعبوں میں اور اسی حد تک مدد فراہم کرنے پر ہے جس کی ہمارے افریقی شراکت دار درخواست کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل افریقی مسائل کے افریقی حل کے بنیادی اصول کی حمایت کرتے ہیں اور افریقی یونین کے ایجنڈا 2063 میں مقرر کردہ کلیدی ہدف یعنی 2030 تک ’’بندوقوں کو خاموش کرنا‘‘ کی بھی تائید کرتے ہیں۔








