اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے نمایاں غربت میں کمی کے اقدام کے تحت ملک بھر میں روزگار کے تقریباً ایک لاکھ 79 ہزار نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں جو نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام (این پی جی پی) کا ایک اہم نتیجہ ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کی دستاویز کے مطابق پروگرام کے نفاذ کے دوران لاکھوں گھرانوں نے این پی جی پی کی مداخلتوں …
پاکستان کے غربت میں کمی کے پروگرام سے روزگار کے ایک لاکھ 79 ہزار نئے مواقع پیدا ہوئے
اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے نمایاں غربت میں کمی کے اقدام کے تحت ملک بھر میں روزگار کے تقریباً ایک لاکھ 79 ہزار نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں جو نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام (این پی جی پی) کا ایک اہم نتیجہ ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کی دستاویز کے مطابق پروگرام کے نفاذ کے دوران لاکھوں گھرانوں نے این پی جی پی کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھایا، ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد گھرانوں کو پائیدار آمدن کے حصول کے لئے پیداواری اثاثے اور تکنیکی تربیت فراہم کی گئی جبکہ 2 لاکھ 4 ہزار سے زائد گھرانوں کو بلاسود قرضے دیئے گئے۔
مجموعی طور پر 3 لاکھ 4 ہزار سے زائد قرضہ جاتی ادائیگیاں کی گئیں جو کاروباری ترقی اور روزگار کے ذرائع مضبوط بنانے کے لئے بار بار فراہم کی جانے والی معاونت کی عکاسی کرتی ہیں۔صلاحیت سازی پروگرام کا ایک بنیادی جزو رہی اور تقریباً 2 لاکھ 27 ہزار گھرانوں نے منظم روزگار سے متعلق تربیتی پروگراموں میں شرکت کی، جن میں کاروباری ترقی، مالیاتی آگاہی، اثاثہ جات کا انتظام اور بنیادی کاروباری مہارتیں شامل تھیں۔
ان اقدامات کا مقصد مستفید ہونے والوں کو اثاثوں کے مؤثر استعمال اور معاشی خود کفالت کی جانب منتقلی کے قابل بنانا تھا۔پروگرام کے اثرات کا جائزہ ایک آزاد تیسرے فریق کے ذریعے کئے گئے اینڈ لائن سروے میں لیا گیا۔ دستاویز کے مطابق سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ روزگار سے متعلق اثاثے اور بلاسود قرضے حاصل کرنے والے 56 فیصد گھرانے انتہائی غربت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ مزید یہ کہ 47 فیصد مستفید ہونے والوں نے گھریلو آمدن میں 30 فیصد یا اس سے زیادہ اضافے کی اطلاع دی، جو آمدنی میں پائیدار بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس اقدام کے نمایاں سماجی نتائج بھی سامنے آئے۔ سروے کے نتائج کے مطابق مستفید ہونے والی 48 فیصد خواتین نے گھریلو فیصلوں میں اپنے کردار میں اضافے کی اطلاع دی، جو معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ خواتین کے بااختیار ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ دستاویز میں این پی جی پی کے کامیاب نفاذ کا سہرا وفاقی اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو دیا گیا ہے۔
فنانس ڈویژن نے مالی وسائل کی فراہمی اور بروقت اجرا کو یقینی بنایا، جبکہ اقتصادی امور ڈویژن نے بیرونی مالی معاونت اور ڈونر کوآرڈینیشن میں کردار ادا کیا جس میں انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ کے ساتھ روابط بھی شامل تھے۔وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کے ساتھ قریبی تعاون کیا تاکہ پروگرام کو قومی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور غربت سے نکلنے کے اشاریوں کو وفاقی پائیدار ترقیاتی اہداف کے فریم ورک میں شامل کیا جا سکے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ بھی قریبی تعاون برقرار رکھا گیا تاکہ نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری کے ذریعے مستحقین کی نشاندہی میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ اس تعاون سے دہراپن سے بچاؤ ممکن ہوا اور نقد امداد حاصل کرنے والے انتہائی غریب گھرانوں کو این پی جی پی کے تحت غربت سے نکلنے کے اقدامات سے مؤثر طور پر جوڑا گیا۔دستاویز کے مطابق نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام پاکستان کےغربت میں کمی کے مؤثر ترین اقدامات میں شامل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں کم آمدن والے لاکھوں گھرانوں کے لئے روزگار کے مواقع، معاشی بہتری اور سماجی بااختیاری کو یقینی بنایا گیا۔









