سعودی عرب میں صنعتی اداروں میں غیر ملکی افرادی قوت پر عائد مالی فیس ختم

ریاض ۔18دسمبر (اے پی پی):سعودی کابینہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی صدارت میں اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کی سفارش پر، صنعتی لائسنس کے تحت رجسٹرڈ صنعتی اداروں میں غیر ملکی افرادی قوت پر عائد مالی فیس ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔العربیہ کے مطابق غیر ملکی کارکنوں پر مالی فیس کے خاتمے کا یہ فیصلہ ولی عہد کی جانب سے …

ریاض ۔18دسمبر (اے پی پی):سعودی کابینہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی صدارت میں اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کی سفارش پر، صنعتی لائسنس کے تحت رجسٹرڈ صنعتی اداروں میں غیر ملکی افرادی قوت پر عائد مالی فیس ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔العربیہ کے مطابق غیر ملکی کارکنوں پر مالی فیس کے خاتمے کا یہ فیصلہ ولی عہد کی جانب سے صنعتی شعبے کی مسلسل سرپرستی اور معاونت کا تسلسل ہے۔ صنعتی شعبہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے اور مملکت میں معاشی ترقی کا اہم محرک سمجھا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ اس تزویراتی شعبے کی اہمیت پر اعتماد اور پہلے اور دوسرے مرحلے کی چھوٹ کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی بھی کرتا ہے۔صنعتی اداروں میں غیر ملکی افرادی قوت پر مالی فیس کے خاتمے سے ولی عہد کی اس اہم شعبے میں گہری دل چسپی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ اقدام سعودی صنعت کی عالمی مسابقت بڑھانے، غیر تیل برآمدات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور پھیلاؤ میں اضافے، صنعتی اداروں کو اپنی سرگرمیوں کی ترقی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے قابل بنانے اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔وژن 2030 کے تحت صنعتی شعبہ ایک پُر کشش تزویراتی شعبہ ہے، جس میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع اور حکومتی توجہ موجود ہے۔

غیر ملکی افرادی قوت پر مالی فیس کے خاتمے کے ساتھ صنعت اور معدنی وسائل کے نظام میں ایسے سہولت کار عوامل موجود ہیں جو مضبوط صنعتی بنیاد قائم کرنے، معاشی نمو کو جاری رکھنے، غیر تیل برآمدات میں اضافے اور اداروں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں معاون ہیں۔یہ فیصلہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اداروں کی ترقی کو تیز کرنے اور ان پر مالی دباؤ کم کرنے کا بھی ہدف رکھتا ہے، تاکہ وہ طویل مدت میں مستحکم رہیں اور چوتھے صنعتی انقلاب کی ٹیکنالوجیز جیسے خود کاری اور اعلی پیداواری کارکردگی اپنا سکیں۔ ان کے لیے مختلف پروگرام اور مراعات متعارف کرائی گئی ہیں جن میں فیکٹریز آف دی فیوچر پروگرام بھی شامل ہے۔

حکومت کے مطابق 2019 سے 2024 کے اختتام تک صنعتی شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اس عرصے میں صنعتی اداروں کی تعداد 8,822 سے بڑھ کر 12 ہزار سے تجاوز کر گئی، صنعتی سرمایہ کاری کی مالیت 35 فی صد اضافے کے ساتھ 12.2 کھرب ریال تک پہنچ گئی، غیر تیل برآمدات 16 فی صد بڑھ کر 217 ارب ریال ہو گئیں، ملازمتوں میں 74 فی صد اضافہ ہوا، مقامی افرادی قوت کا تناسب 29 فی صد سے بڑھ کر 31 فی صد ہو گیا، جبکہ صنعتی مجموعی قومی پیداوار 56 فی صد اضافے سے 501 ارب ریال سے تجاوز کر گئی۔

وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر بن ابراہیم الخریف نے اس فیصلے پر قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم سعودی صنعت کی مسابقت بڑھانے، اخراجات کم کرنے، پائیدار صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور 2035 تک صنعتی مجموعی قومی پیداوار کو بڑھا کر 895 ارب ریال تک پہنچانے کے قومی ہدف کے حصول میں مدد گار ثابت ہو گا۔