اقوام متحدہ کی یمن میں حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی حراست کی مذمت

اقوام متحدہ ۔18دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نےیمن میں حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور دیگر تنظیموں کے عملے کی بلاجواز حراست کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں 59 اقوام متحدہ کے اہلکاروں، شراکت دار عملے، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، سول سوسائٹی تنظیموں اور سفارتی مشنوں کے عملے کی مسلسل بلاجواز حراست کی سخت الفاظ میں …

اقوام متحدہ ۔18دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نےیمن میں حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور دیگر تنظیموں کے عملے کی بلاجواز حراست کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں 59 اقوام متحدہ کے اہلکاروں، شراکت دار عملے، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، سول سوسائٹی تنظیموں اور سفارتی مشنوں کے عملے کی مسلسل بلاجواز حراست کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔حالیہ دنوں میں حوثی حکام نے تین اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو خصوصی فوجداری عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انتونیو گوتریش نے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان اہلکاروں پر اقوام متحدہ کے رسمی فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں فوراً واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہمارے اہلکاروں کی مسلسل حراست ایک سنگین ناانصافی ہے، جو ان لوگوں کے ساتھ ظلم ہے جنہوں نے اپنی زندگی یمن کے عوام کی مدد کے لیے وقف کی ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کو کبھی بھی ان کے رسمی فرائض کی انجام دہی کی بنا پر گرفتار یا حراست میں نہیں لیا جانا چاہیے۔ ہمیں اپنے کام کو بغیر کسی مداخلت کے انجام دینے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

سیکریٹر ی جنرل نے یمن میں کشیدگی کے خاتمے کی بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں حالات بگڑتے جا رہے ہیں، اور مشرقی گورنریٹ میں ہونے والی نئی پیشرفتیں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ جنگ کی مکمل بحالی کا خطہ امن و سلامتی کے لیےخاص طور پر بحیرہ احمر، خلیج عدن اور ہارن آف افریقہ میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کو کم کریں، اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ یمن کو ایک پائیدار اور باہمی طور پر تسلیم شدہ سیاسی حل کی ضرورت ہے، جو تمام یمنی عوام کی خواہشات کا احترام کرے اور اس تباہ کن تنازعے کا خاتمہ کرے۔ اس کے بغیر، یمنی عوام کو ایک سنگین قیمت چکانی پڑے گی۔