لاہور۔18فروری (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب رفاقت علی نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے اور صنعت و تجارت کے فروغ کیلئے نجی شعبے کے ساتھ قریبی رابطہ ضروری ہے۔ حکومت ایس ایم ایز اور ایکسپورٹ پر مبنی صنعتوں کی معاونت کیلئے مختلف پائلٹ پروگرامز پر کام کر رہی …
حکومت ایس ایم ایز اور ایکسپورٹ پر مبنی صنعتوں کی معاونت کیلئے مختلف پائلٹ پروگرامز پر کام کر رہی ہے۔رفاقت علی
لاہور۔18فروری (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب رفاقت علی نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے اور صنعت و تجارت کے فروغ کیلئے نجی شعبے کے ساتھ قریبی رابطہ ضروری ہے۔ حکومت ایس ایم ایز اور ایکسپورٹ پر مبنی صنعتوں کی معاونت کیلئے مختلف پائلٹ پروگرامز پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آسان کاروبارسکیم کے تحت ایکسپورٹ سے متعلق ویلیو ایڈیشن کے لیے صنعتوں کو بلاسود مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جسے مزید توسیع دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔وہ لاہور چیمبر میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے ان کا استقبال کیا جبکہ نائب صدر خرم لودھی، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران رانا شعبان اختر اور عرفان قریشی بھی موجود تھے۔
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی معیشت کا حجم تقریبا 400 ارب ڈالر ہے جبکہ قومی جی ڈی پی میں پنجاب کا حصہ 55 فیصد سے زائد ہے، اس لیے پائیدار ترقی کے لیے پنجاب کی صنعتی بنیاد کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے ترقیاتی بجٹ کو 842 ارب روپے سے بڑھا کر 1,240 ارب روپے کرنا خوش آئند ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبہ بندی کو کاروبار دوست بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاری، پیداوار اور ایکسپورٹس میں بیک وقت اضافہ ممکن ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ مصنوعات، پراسیسڈ فوڈ، فارماسیوٹیکلز، لائٹ انجینئرنگ اور آئی ٹی سروسز میں وسیع صلاحیت موجود ہے، جس کے لیے عالمی معیار کی ٹیسٹنگ اور سرٹیفیکیشن لیبارٹریوں کا قیام ضروری ہے۔صدر لاہور چیمبر نے سیکٹر اسپیسفک انڈسٹریل پارکس اور ایس ایم ای سیکٹر کے لیے خصوصی اکنامک زونز کے قیام کی تجویز بھی دی، جہاں زمین رعایتی نرخوں پر طویل مدت کے لیے لیز پر فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کا جی ڈی پی میں تقریبا 40 فیصد اور ایکسپورٹس میں 25 فیصد حصہ ہے، جس پر خصوصی توجہ دے کر روزگار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جدید اسکل ڈویلپمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں جو عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکنالوجی پارکس، اسٹارٹ اپ سپورٹ، ای کامرس اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔فہیم الرحمن سہگل نے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے کہا کہ صنعتوں کو گرین فنانسنگ کے ذریعے ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے حصول میں سہولت دی جائے اور انرجی ایفیشنٹ آلات کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو وسعت دینے پر بھی زور دیا اور کہا کہ لاہور چیمبر حکومت کے ساتھ تعمیری شراکت داری کے لیے مکمل تعاون کا خواہاں ہے۔سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ رفاقت علی نے مزید کہا کہ حکومت نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور موجودہ ترقیاتی پروگرام میں اس مقصد کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے، خصوصا نرسنگ، ہیلتھ اور ای کامرس کے شعبوں میں۔
انہوں نے بتایا کہ انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کے لیے ایسے پروگرامز متعارف کرائے گئے ہیں جن کے تحت صنعتیں خود افرادی قوت کی تربیت کرتی ہیں اور بعد ازاں انہیں روزگار فراہم کرتی ہیں۔رفاقت علی نے کہا کہ آئندہ سال کے سالانہ ترقیاتی منصوبے کی تیاری شروع ہو رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ صنعتکار اپنی تجاویز مرتب کرکے حکومت کو فراہم کریں تاکہ انہیں پالیسی سازی میں شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعت اور حکومت کے درمیان قریبی تعاون سے ہی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں









