اسلام آباد ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو ایگزیکٹو آرڈرز اور فیصلوں کے ذریعے ان کی پارٹی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لیڈر وہی ہوگا جسے پارٹی چاہے گی۔ عدالتی فیصلوں پر تنقید محاذ آرائی نہیں، ہم متنازعہ ترین جے آئی ٹی کے سامنے بھی پیش ہوئے۔ ختم نبوت کے حلف نامے کے حوالے سے حقائق کو مسخ …
پانامہ ایک بین الاقوامی سازش تھی، خواجہ سعد رفیق

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو ایگزیکٹو آرڈرز اور فیصلوں کے ذریعے ان کی پارٹی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لیڈر وہی ہوگا جسے پارٹی چاہے گی۔ عدالتی فیصلوں پر تنقید محاذ آرائی نہیں، ہم متنازعہ ترین جے آئی ٹی کے سامنے بھی پیش ہوئے۔ ختم نبوت کے حلف نامے کے حوالے سے حقائق کو مسخ نہیں کرنا چاہئے۔ ہم نے اداروں پر سازش کا کوئی الزام نہیں لگایا، پانامہ ایک بین الاقوامی سازش تھی جسے پاکستان میں ہمارے خلاف استعمال کیا گیا۔ منگل کو ایوان بالا میں مختلف تحاریک التواءپر بحث سمیٹتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سیاست کے میدان میں غلطیاں کس نے نہیں کیں، خرابیاں کس سے نہیں ہوئیں، جو گناہ ہمارے کھاتے میں ڈالے گئے ہیں وہ انہوں نے خود کئے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آر او کیوں ہوتے ہیں، سیاستدان مجبور ہوتے ہیں، چالیس چالیس سال گذرنے کے باوجود ایک دوسرے پر تنقید سے باز نہیں آتے لیکن این آر او کی وجہ کا ذکر نہیں کرتے، کیا یہ اچھی بات ہے کہ ہر وزیراعظم کو کرپٹ کہہ کر نکالا گیا۔ سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے گئے، حکومتیں گرانے کے سارے کام پی پی نے بھی کئے تھے۔








