جنگ بندی کو اب مستقل بات چیت، اعتماد سازی کے اقدامات اور پرامن حل کے واضح عزم کے ذریعے مستحکم کیا جانا چاہئے، صدر مملکت آصف علی زرداری
جنگ بندی کو اب مستقل بات چیت، اعتماد سازی کے اقدامات اور پرامن حل کے واضح عزم کے ذریعے مستحکم کیا جانا چاہئے، صدر مملکت آصف علی زرداری
اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کی صبح ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بروقت اقدام قرار دیا ہے جو بات چیت، تحمل اور خطے میں مستحکم ماحول کیلئے راستہ فراہم کرتا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خلوص نیت کے ساتھ کشیدگی میں کمی کیلئے نیک نیتی سے مسلسل کام کیا، جب دنیا ایک سنگین تباہی کے قریب تھی، ہم نے یہ اقدام خطے اور پوری انسانیت کی بھلائی کیلئے کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ امن سلامتی، اقتصادی استحکام اور باہم جڑے ہوئے خطوں میں لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دانشمندی، عزم اور امن کیلئے ثابت قدمی کے ساتھ قیادت کرنے پر فخر ہے۔ صدر مملکت نے ایران اور امریکہ کی قیادت کی تعریف کی کہ انہوں نے تصادم کی بجائے بات چیت کو ترجیح دی۔ انہوں نے واشنگٹن، تہران، اسلام آباد اور خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کی قیادت کی ان تھک کوششوں کو سراہا جس سے کشیدگی میں کمی اور سفارتکاری کیلئے راستہ کھلا۔ صدر مملکت نے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی انتھک کاوشوں کو بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی بروقت کاوشوں، قیادت اور مسلسل سفارتی رابطوں نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ صدرِ مملکت نے اس مفاہمت تک پہنچنے میں شامل تمام فریقین کی جانب سے حقیقت پسندی، لچک اور مدبرانہ طرزِ عمل کے مظاہرے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مثبت نتائج کیلئے مضبوط سیاسی عزم اور محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کو ترجیح دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے برادر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جن میں چین، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر اور دیگر جی سی سی ممالک شامل ہیںجنہوں نے مشکل وقت میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور بات چیت کے فروغ کیلئے تعمیری کردار ادا کیا۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ دنیا بھر کے عوام کی دعاؤں اور نیک تمناؤں نے امن کیلئے ایک مشترکہ انسانی خواہش کی عکاسی کی ہے، یہ اجتماعی آواز اہمیت رکھتی ہے اور اس سے رہنماؤں کو ذمہ دارانہ فیصلوں کی جانب رہنمائی کرتی رہنی چاہئے۔
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی خطے کیلئے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے تاکہ وہ سکھ کا سانس لے، بحالی کی جانب بڑھے اور ایک وسیع تر جنگ کے خطرے کے سائے سے باہر نکل سکے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنگ بندی کو اب مستقل بات چیت، اعتماد سازی کے اقدامات اور پرامن حل کے واضح عزم کے ذریعے مستحکم کیا جانا چاہیے۔ صدرِ مملکت نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے ہر ممکن کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔









