حکومت و اپوزیشن اراکین سینٹ کا علاقائی کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی قیادت کی مؤثر سفارتی کوششوں پر خراج تحسین

حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین سینٹ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی قیادت کی مؤثر سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ امن کے ثمرات کو برقرار رکھنے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے

اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین سینٹ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی قیادت کی مؤثر سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ امن کے ثمرات کو برقرار رکھنے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔انہوں نے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ممکنہ بڑے سانحے کو ٹالنے کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں نے عالمی برادری میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔بدھ کو سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے کامیاب سفارتکاری کے ذریعے وسیع تر تنازع کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم اس بات کی مستحق ہے کہ اس نے اپنے اداروں کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہونے کا مظاہرہ کیا۔سابق وزیرِاعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک تاریخی سنگِ میل کے طور پر یاد رکھی جائے گی اور یہ کہ بحران کے دوران پاکستان کی سفارتی حکمت عملی عالمی امن کے قیام کے لیے ایک مثال بنے گی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ جنگ کا خدشہ کم ہو گیا ہے اور امید ظاہر کی کہ اب عالمی وسائل ترقی کے لیے استعمال ہوں گے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جنگ بندی صرف پہلا قدم ہے اور پائیدار امن کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔سینیٹر منظور احمد نے صدر آصف علی زرداری، وزیرِاعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کو امن کے فروغ میں کردار ادا کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا اور سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ قومی ترقی کے لیے اختلافات کو بالائے طاق رکھیں۔سینیٹر دنیش کمار نے پاکستان کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک مسلم دنیا میں امن اور قیادت کی علامت بن کر ابھرا ہے اور اقلیتی برادریاں بھی قومی قیادت کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔سینیٹرز جام سیف اللہ خان، محمد ہمایوں مہمند، خالدہ اطیب، نسیمہ احسان، ضمیر حسین گھمرو، فیصل جاوید، بشریٰ انجم بٹ، ایمل ولی خان، پونجو بھیل، سید مسرور احسن، افنان اللہ خان، طاہر خلیل سندھو اور ذیشان خانزادہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یکجہتی، تحمل اور مسلسل سفارتی کوششیں ہی اس نازک جنگ بندی کو پائیدار امن میں بدل سکتی ہیں۔