نیب کی کوششوں سے 6500 کنال سے زائد ایمینٹی اراضی سی ڈی اے کو منتقل، اربوں روپے کے قومی اثاثے محفوظ

vقومی احتساب بیورو (نیب)اسلام آباد/راولپنڈی کی موثر حکمت عملی کے نتیجے میں ہائوسنگ سوسائٹیز کی ہزاروں کنال ایمینٹی اور پبلک سپیس اراضی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے نام منتقل کر دی گئی جسے شہری سہولیات کے تحفظ اور عوامی حقوق کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب)اسلام آباد/راولپنڈی کی موثر حکمت عملی کے نتیجے میں ہائوسنگ سوسائٹیز کی ہزاروں کنال ایمینٹی اور پبلک سپیس اراضی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے نام منتقل کر دی گئی جسے شہری سہولیات کے تحفظ اور عوامی حقوق کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق نیب نے سہولتی اراضی کی غیر قانونی استعمال اور طویل عرصے سے منتقلی نہ ہونے کے مسئلے کے حل کے لیے پیشگی اور اصلاحاتی اقدامات کیے۔ ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان کی زیر نگرانی اس عمل کو حتمی شکل دی گئی۔پہلے مرحلے میں گلبرگ ریزیڈینشیا کی 5,484.76 کنال جبکہ مارگلہ ویو ڈی۔ 17 کی 999 کنال اراضی سی ڈی اے کے حق میں منتقل کی گئی۔ اس سلسلے میں رجسٹری منتقلی کی تقریب بھی نیب اسلام آباد/راولپنڈی میں منعقد ہوئی جبکہ دیگر ہائوسنگ سوسائٹیز کی اراضی کی منتقلی کا عمل بھی مرحلہ وار جاری ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق منتقل کی جانے والی زمین کی مالیت ڈی سی ریٹ کے مطابق 41 ارب روپے جبکہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 25.43 ارب روپے ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 66 ارب روپے مالیت کی زمین سی ڈی اے کے نام منتقل کی جا چکی ہے جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید 4500 کنال اراضی کی منتقلی متوقع ہے۔

نیب حکام کے مطابق کئی ہائوسنگ سوسائٹیز کی اراضی گزشتہ تین دہائیوں سے زیر التواء تھی جن میں سویلین ایمپلائز ہائوسنگ سوسائٹی کا کیس تقریباً 31 سال سے لٹکا ہوا تھا جسے اب مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 4793 کنال اراضی کی میوٹیشن بھی مکمل کی جا چکی ہے جبکہ مزید 2500 کنال اراضی کی میوٹیشنز زیر غور ہیں۔یہ اراضی پارکس، تعلیمی اداروں، صحت مراکز اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص تھی تاہم تاخیر اور بے ضابطگیوں کے باعث بعض مقامات پر چائنا کٹنگ جیسے غیر قانونی اقدامات سامنے آئے تھے۔ موجودہ پیش رفت کے بعد ان زمینوں کو محفوظ بنا کر اصل مقصد کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔اس عمل کی تکمیل کے لیے نیب کی خصوصی ٹیم نے سی ڈی اے، محکمہ مال اسلام آباد اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے متعدد مشاورتی اجلاس منعقد کیے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف شفافیت کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔ڈی جی نیب نے اس عمل کو مزید وسعت دیتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی ڈویژن کی باقی ماندہ ہائوسنگ سوسائٹیز کی اراضی کی سی ڈی اے اور آر ڈی اے کو منتقلی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے جسے دیگر اضلاع تک بھی پھیلایا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نیب کے شہری مرکز احتسابی ماڈل کی عکاس ہے جو صرف کارروائی تک محدود نہیں بلکہ روک تھام، نظامی اصلاحات اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے قومی وسائل کے تحفظ اور عوامی اعتماد کی بحالی پر مرکوز ہے۔

 

مزید خبریں