وفاقی وزیر ہائوسنگ وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ سے چیئرمین نیب کی ملاقات، سرکاری اثاثوں کے شفاف استعمال اور ہائوسنگ اصلاحات پر اتفاق

وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس میں وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ سے چیئرمین نیشنل اکائونٹیبلٹی بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے ملاقات کی جس میں سرکاری اثاثوں کے موثر استعمال، شفافیت کے فروغ اور ہائوسنگ سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان کے مطابق وفاقی وزیر نے چیئرمین نیب کا خیرمقدم کرتے ہوئے انسداد بدعنوانی کے حوالے سے نیب کے کردار کو سراہا …

اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس میں وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ سے چیئرمین نیشنل اکائونٹیبلٹی بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے ملاقات کی جس میں سرکاری اثاثوں کے موثر استعمال، شفافیت کے فروغ اور ہائوسنگ سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان کے مطابق وفاقی وزیر نے چیئرمین نیب کا خیرمقدم کرتے ہوئے انسداد بدعنوانی کے حوالے سے نیب کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ریاستی اداروں میں شفافیت اور احتساب کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے بعض فیصلوں کے باعث قومی اثاثوں کو مالی نقصان پہنچا جس کے ازالے کے لیے موثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔میاں ریاض حسین پیرزادہ نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے انہیں پائیدار اور آمدن پیدا کرنے والے اداروں میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کم استعمال ہونے والی سرکاری عمارتوں کو پیداواری مقاصد کے لیے بروئے کار لانے اور اثاثہ جات کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس موقع پر چیئرمین نیب نے ملک کے مختلف شہروں میں سرکاری زمینوں اور جائیدادوں کو ہائوسنگ منصوبوں کے لیے بہتر انداز میں استعمال کرنے کی تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے بین الاقوامی ہائوسنگ ماڈلز اپنانے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں پائلٹ پراجیکٹس شروع کرنے کی تجویز دی تاکہ بعد ازاں ان ماڈلز کو ملک بھر میں توسیع دی جا سکے۔ انہوں نے شفاف پالیسی سازی اور بدانتظامی و بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نیب کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔دوران ملاقات وفاقی سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس کیپٹن (ر) محمد محمود نے کراچی میں وزارت کے زیر انتظام جائیدادوں کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 512 ایکڑ پر مشتمل 3 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس اسٹیٹ آفس کے دائرہ اختیار میں ہیں، جن میں سے متعدد قانونی تنازعات اور غیر قانونی قبضوں کا شکار ہیں جس کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے جامع پالیسی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہے جس میں نیب اور عدلیہ کے ساتھ قریبی تعاون کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ملاقات کے اختتام پر شفافیت کے فروغ، گورننس کی بہتری اور قومی اثاثوں کے موثر استعمال کے ذریعے عوامی مفاد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مزید خبریں