خدام کیلئے ڈیجیٹل سکور کارڈ سسٹم فعال، عازمین کی ریٹنگ، غیر حاضری یا غفلت پر جرمانہ اور ڈی پورٹ کی سزا ہو سکتی ہے ، احمد ندیم خان

خدام کیلئے ڈیجیٹل سکور کارڈ سسٹم فعال، عازمین کی ریٹنگ، غیر حاضری یا غفلت پر جرمانہ اور ڈی پورٹ کی سزا ہو سکتی ہے ، احمد ندیم خان

مکہ مکرمہ۔6مئی (اے پی پی):پاکستان کی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے حج مشن اور این آئی ٹی بی کے اشتراک سے ایک لاکھ 19 ہزار پاکستانی عازمین کی خدمت اور رہنمائی کے لیے مامور 1378 خدام الحاج کی نگرانی کے لیے پہلی مرتبہ ’’خدام مانیٹرنگ اینڈ پرفارمنس سسٹم‘‘ فعال کر دیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے خدام مانیٹرنگ اینڈ پرفارمنگ سیل(کے ایم پی سی) کے کوآرڈینیٹر اور وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری احمد ندیم خان نے بتایا کہ اس جدید نظام کے تحت یومیہ بنیادوں پر خدام کی کارکردگی کا سکور کارڈ مرتب کیا جائے گا۔

اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے والے خدام کو پہلے مرحلے میں وارننگ اور جرمانہ جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر پاکستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔اس ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے کلیدی اشاریوں (کے پی آئیز) میں خدام کی حاضری، مقررہ پوائنٹ پر موجودگی، نظم و ضبط اور دوران ڈیوٹی مخصوص جیکٹ و ’’نسک کارڈ‘‘ کا پاس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ عازمین حج کی سہولت کے لیے رہائش گاہوں اور بسوں کے پک اینڈ ڈراپ پوائنٹس پر کیو آر کوڈز آویزاں کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے عازمین خود بھی خدام کے رویے اور خدمات کو ایک سے پانچ سٹار تک ریٹنگ دے سکیں گے۔

ان تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خدام کو 100 پوائنٹس میں سے نمبر دیئے جائیں گے جس کی بنیاد پر بہترین کارکردگی کے حامل افراد کو تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔احمد ندیم خان نے بتایا کہ اس سال خدام کا انتخاب این ٹی ایس کے ذریعے مکمل شفافیت کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہ عملہ 12 سے 24 گھنٹے عازمین کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ سسٹم میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سیکٹر کوآرڈینیٹر کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ کسی خادم کی غیر حاضری یا شکایت پر اس کی ٹھوس شواہد کے ساتھ وضاحت کر کے ریکارڈ میں درستگی کرا سکیں گے۔ بریفنگ میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ امسال خواتین خدام کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جنہیں الگ رہائش فراہم کی گئی ہے اور تاحال تمام ٹیم ورک کے دوران کسی قسم کی ہراسمنٹ یا بدمزگی کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔