وفاقی آئینی عدالت نے مری میں 577 کنال اراضی کی الاٹمنٹ منسوخی کے خلاف اپیلیں خارج کر دیں، 40 ارب روپے سے زائد مالیت کی زمین پنجاب حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت

وفاقی آ ئینی عدالت نے مری میں 577 کنال اراضی کی الاٹمنٹ منسوخی کے خلاف اپیلیں خارج کر دیں، 40 ارب روپے مالیت کی زمین پنجاب حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت

اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب حکومت کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے مری میں 577 کنال اراضی کی الاٹمنٹ منسوخی کے خلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں اور 40 ارب روپے سے زائد مالیت کی اراضی کا قبضہ پنجاب حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی جس کے دوران عدالت میں اراضی کی قانونی حیثیت اور اس کے استعمال سے متعلق اہم دلائل پیش کیے گئے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کئی دہائیوں بعد زمین کی الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دینا درست نہیں جبکہ جس قانون کے تحت الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا وہ اس وقت موجود ہی نہیں تھا۔ دوسری جانب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز ملک نے عدالت کو بتایا کہ سیٹلمنٹ سکیم کے تحت صرف زرعی اراضی الاٹ کی جا سکتی ہے جبکہ مذکورہ زمین شہری علاقے میں واقع ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جب زمین کی بنیاد ہی غیر قانونی ہو تو اس پر قائم تعمیرات بھی درست قرار نہیں دی جا سکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار اگر زرعی زمین کے بدلے کسی دعوے کا حق رکھتا ہے تو اسے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے۔سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے سوال اٹھایا کہ جو زمین الاٹ کی گئی وہ اس وقت کس کے زیر استعمال ہے۔

اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز ملک نے بتایا کہ کچھ حصے پر کوہسار یونیورسٹی قائم ہو رہی ہے جبکہ کچھ زمین گرلز گائیڈ اور سکائوٹس کے زیر استعمال ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کے زیر قبضہ زمین عوامی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے جبکہ کچھ حصے کا قبضہ حکومت کی جانب سے واگزار کروایا جانا ہے۔ اراضی کو مری بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد اپیلیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ اراضی کا قبضہ پنجاب حکومت کے حوالے کیا جائے تاکہ اسے عوامی مفاد کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکے۔