بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ عالمی کانفرنس ’’کالیبن بولتا ہے‘‘ میں ماہرین تعلیم اور محققین نے اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے علمی استحصال کے ایک نئے محاذ میں تبدیل ہو رہی ہے اور اس کے مقابلے کے لیے مقامی علمی روایات کا تحفظ اور انہیں پالیسی سازی کا حصہ بنانا ناگزیر ہے
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس اختتام پذیر،ماہرین کا مصنوعی ذہانت کا مقابلہ کرنے کیلئے مقامی علمی روایات کے تحفظ اور انہیں پالیسی سازی کا حصہ بنانے پرزور
اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ عالمی کانفرنس ’’کالیبن بولتا ہے‘‘ میں ماہرین تعلیم اور محققین نے اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے علمی استحصال کے ایک نئے محاذ میں تبدیل ہو رہی ہے اور اس کے مقابلے کے لیے مقامی علمی روایات کا تحفظ اور انہیں پالیسی سازی کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ بدھ کو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ’’کالیبن بولتا ہے‘‘ اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس کی سفارشات میں ما بعد نوآبادیاتی فکر کو علمی اداروں کی چار دیواری سے نکال کر پالیسی سازی کے ایوانوں تک پہنچانا شامل تھا۔ کانفرنس نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت علمی استحصال کا نیا ترین محاذ بن چکی ہے اور مقامی علمی روایات کا اس میدان میں دفاع اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی اور محاذ پر۔ اختتامی نشست کی صدارت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدر برائے تحقیق و کاروباری امور پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے کی۔ انہوں نے کانفرنس کی مرکزی فکری اور سفارشات کو متعلقہ پالیسی فورمز کو ارسال کرنے کا اعلان کیا۔ سفارشات شریک کنوینر ڈاکٹر محمد شیراز دستی نے پیش کیں۔
ان سفارشات میں کہا گیا کہ علوم انسانی کے نصاب میں معاشی خواندگی کو شامل کیا جائے تاکہ ما بعد نوآبادیاتی فکر محض علامتی نہ رہے بلکہ طاقت کے مادی ڈھانچوں سے براہ راست نبرد آزما ہو۔ شرکا نے کہا کہ مٹھی بھر کارپوریشنوں کے ہاتھوں میں کمپیوٹیشنل طاقت اور ڈیٹا کی ملکیت کا ارتکاز مقامی اور غیر مغربی علم کو اس کے اصل سیاق سے کاٹ کر مغربی علمی اور تجارتی فریم ورک میں ڈھالنے کا عمل ایک نئی شکل کا استحصال ہے۔ جامعات میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا مقصد محض طلبہ کو ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا نہیں بلکہ انہیں یہ سوال پوچھنے کے قابل بنانا ہے کہ یہ آلات کس کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں اور انہیں مقامی علمی روایات کی طرف کیسے موڑا جا سکتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے اختتامی خطاب میں دو روزہ علمی مباحثے کو ایک فلسفیانہ فریم ورک میں سمیٹا اور فرد کو کسی بھی ما بعد نوآبادیاتی منصوبے کا ناقابل تقسیم نقطہ آغاز قرار دیا۔ انہوں نے تین دائروں کا ماڈل پیش کیا، مرکز میں انسان، دوسرے دائرے میں معاشرہ اور کائنات اور تیسرے دائرے میں ماورائے کائنات، انہوں نے کہا کہ مقامی فکروہ اصول ہے جو ان تینوں دائروں کو باہم جوڑتا ہے۔
انہوں نے برین ٹو برین انٹرفیس کمیونیکیشن کو ایک آنے والی تکنیکی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مقامی فکر حاشیے پر نہیں بلکہ مرکز میں ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ کانفرنس کی سفارشات بلا تاخیر پالیسی فورمز تک پہنچائی جائیں۔ کانفرنس کی کنوینر ڈاکٹر اسماء منصور نے اختتامی تقریب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ما بعد نوآبادیاتی فکر کو اپنے فکری قید خانے سے آزاد ہو کر ایک عملی اور مادی حقیقت بننا ہوگا۔ نظریہ جب عمل سے خالی ہو تو محض کارکردگی بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کا اپنا کیمپس فارسی، عربی اور اسلامی علوم کا ایک بیش بہا ذخیرہ رکھتا ہے جو بڑی حد تک غیر استعمال شدہ ہے، یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ما بعد نوآبادیاتی کام کا آغاز اپنے گھر سے ہونا چاہیے ۔ مصنوعی ذہانت کے بارے میں ان کا موقف دو ٹوک تھا کہ یہ نظام غیر جانبدار نہیں اور انہیں تنقیدی نگاہ سے پرکھنا ضروری ہے۔ اختتامی تقریب میں شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن اور شریک کنوینر ڈاکٹر صائمہ اسلم نے جامعہ کے قائم مقام ریکٹر و صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کی سرپرستی، ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے تعاون اور کانفرنس کی انتظامی کمیٹی اور پوری فیکلٹی کی انتھک محنت پر اظہار تشکر کیا۔
یہ کانفرنس شعبہ انگریزی، فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر کے زیراہتمام منعقد ہوئی جس میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، عمان اور پاکستان بھر سے محققین نے شرکت کی۔ دو روز میں کئی بار کلیدی خطابات، آٹھ متوازی علمی نشستیں اور دو پینل مباحثے ہائبرڈ فارمیٹ میں منعقد ہوئے۔









