معروف ماہرِ تعلیم و معالج ڈاکٹر منیر احمد لنگاہ نے کہا ہے کہ آٹزم سمیت بچوں کو درپیش نفسیاتی و سماجی مسائل کے حوالے سے بروقت تشخیص اور درست رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ابتدائی توجہ ہی خصوصی بچوں کی بہتر نشوونما کی بنیاد رکھتی ہے
بچوں کو درپیش نفسیاتی و سماجی مسائل کے حوالے سے بروقت تشخیص اور درست رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈاکٹر منیر احمد لنگاہ
اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):معروف ماہرِ تعلیم و معالج ڈاکٹر منیر احمد لنگاہ نے کہا ہے کہ آٹزم سمیت بچوں کو درپیش نفسیاتی و سماجی مسائل کے حوالے سے بروقت تشخیص اور درست رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ابتدائی توجہ ہی خصوصی بچوں کی بہتر نشوونما کی بنیاد رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی تعلیمی ادارے میں منعقدہ آٹزم آگاہی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی آٹزم سے متعلق آگاہی کی کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے والدین اکثر دیر سے اس مسئلے کو سمجھ پاتے ہیں،ان کے مطابق آٹزم کوئی بیماری نہیں بلکہ بچوں کی نشوونما کا ایک مختلف انداز ہے جسے سمجھنے، قبول کرنے اور اس کے مطابق حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈاکٹر منیر احمد لنگاہ نے اساتذہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے خصوصی بچوں کی تربیت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،اگر اساتذہ کو مناسب تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ایسے بچوں کی تعلیمی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکتے ہیں بلکہ ان کے اعتماد میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔ ایک نجی تعلیمی ادارے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منیر احمد لنگاہ نے کہا کہ بچوں کو درپیش ذہنی دباؤ، تعلیمی مقابلہ بازی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے لئے والدین اور اساتذہ کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے ساتھ مثبت رویہ، برداشت اور مستقل رہنمائی ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی بچوں کو معاشرے کا کارآمد حصہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں یکساں مواقع فراہم کئے جائیں اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے۔ تقریب کے دوران سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی ،جس میں شرکاء نے آٹزم اور بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق مختلف سوالات کئے جن کے انہوں نے تفصیلی اور تسلی بخش جوابات دیئے۔ تقریب کے اختتام پر ادارے کی انتظامیہ نے ڈاکٹر منیر احمد لنگاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آٹزم سے متعلق آگاہی کے فروغ میں ان کی خدمات کو سراہا۔









