قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے وفاقی بجٹ بارے متعلقہ شراکت داروں کی تحریری تجاویز وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو ارسال کر دیں
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے وفاقی بجٹ بارے متعلقہ شراکت داروں کی تحریری تجاویز وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو ارسال کر دیں
اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ بارے متعلقہ شراکت داروں کی تحریری تجاویز مرتب کر کے باضابطہ طور پر وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کر دیں۔کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ان سفارشات کا جائزہ لے کر قابل عمل تجاویز کوبجٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس بدھ کویہاں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل اہم معاشی ترجیحات پر غور کیا گیا۔
یہ اجلاس قبل از بجٹ مشاورت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا بنیادی مقصد بجٹ کی تیاری سے قبل تمام متعلقہ فریقین کی آراء کو شامل کرنا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے سالانہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پرزوردیا اور کہاکہ اس سے مسائل اور بے ضابطگیوں کو بروقت حل کرنے میں مدد ملے گی،ابتدائی مرحلے پر مشاورت نہایت اہم ہے ، اس سے زیرالتواء مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے اور بجٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے ان کا ازالہ ممکن ہوتا ہے۔
چیئرمین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات سالانہ روایت کے مطابق بجٹ سے قبل تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کرتی ہے اور اس سال بھی فنانس بل 2026-27 پیش ہونے سے پہلے متعلقہ فریقین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا ہے۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ مشاورتی اجلاسوں کا مقصد حکومت، قانون سازوں، بجٹ تیار کرنے والے اداروں، کاروباری برادری اور صارفین کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا ہدف اتفاق رائے پیدا کرنا اور کاروباری شعبے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے، وسیع تر مقصد نہ صرف تجارت، درآمدات اور برآمدات کو فروغ دینا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو ہموار بنانا، بدعنوانی کا خاتمہ، غیر ضروری واجبات کا سدباب اور قومی آمدن میں اضافہ بھی ہے۔
اجلاس میں سینیٹرز طلحہ محمود، عبدالقادر، دلاور خان، منظور احمد کاکڑ، احمد خان اور انوشہ رحمان احمد خان نے شرکت کی، بعض ارکان ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے، وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں ملک کے بڑے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے نمائندگان نے شرکت کی اور اپنی تحریری تجاویز پیش کیں۔ ان میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور سیالکوٹ چیمبرز آف کامرس کے علاوہ کوئٹہ، گوجرانوالہ، اٹک، خیبر پختونخوا، سابق فاٹا اور پاٹا اور گجرات سمیت دیگر علاقوں کے نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی کے ارکان نے قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شراکت داروں نے ٹیکس نظام، خفیہ چارجز، لیویز، درآمدات و برآمدات سے متعلق ضوابط، تجارتی سہولت کاری اور سرمایہ کاروں کے مسائل سمیت متعدد امور پر تفصیلی تجاویز پیش کیں۔اجلاس میں کھلی بحث کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء کو اپنے شعبہ جاتی مسائل اجاگر کرنے اور سفارشات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ کمیٹی نے قابل عمل اور موثر حل تلاش کرنے کیلئے ان تجاویزپر تفصیلی غور کیا۔ جامع مشاورت کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے تمام تحریری تجاویز مرتب کر کے باضابطہ طور پر وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کر دیں۔کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ان سفارشات کا جائزہ لے کر قابل عمل تجاویز کو شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔









