کل جماعتی حریت کانفرنس کاکشمیر بارے فیلڈ مارشل کے بیان کا خیر مقدم،مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو سخت نگرانی والے خطے میں تبدیل کر دیا ، رپورٹ

کل جماعتی حریت کانفرنس کاکشمیر بارے فیلڈ مارشل کے بیان کا خیر مقدم،مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو سخت نگرانی والے خطے میں تبدیل کر دیا ، رپورٹ

سرینگر۔11مئی (اے پی پی):غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کو کشمیر کے بغیر نامکمل قراردیاہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ بیان اپنے مادر وطن پر بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے کشمیریوں کی امنگوں اور جذبات کا عکاس ہے۔

انہوں نے کہاکہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے بجا طور پر کہاہے کہ اگست 2019 کے بعدمقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلیاں اور نوآبادیاتی پالیسیاں زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔حریت ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت حق خود ارادیت کے لیے جاری کشمیریوں کی جدوجہد کے لیے باعث تقویت ہے۔

دریں اثناء ”ٹیک پالیسی پریس” کی طرف سے شائع ایک بین الاقوامی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مودی حکومت نے کس طرح مقبوضہ جموں وکشمیر کو سخت نگرانی والے خطے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں صحافیوں،انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے اورانہیں ڈرایا دھمکایاجارہا ہے۔ محقق پیٹرا مولنر کی مرتب کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اختلاف رائے کو دبا نے کیلئے بائیو میٹرک سسٹم، سی سی ٹی وی نیٹ ورکس، ٹیلی مواصلات کی نگرانی اورجمع کئے گئے کوائف کو استعمال کر رہے ہیں ۔

ادھرکشمیری عوام نے بی جے پی کی زیر قیادت قابض انتظامیہ کی نام نہاد انسداد منشیات مہم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جس کا استعمال مقبوضہ جموں وکشمیر کی معیشت کو کمزور کرنے اور مقامی آبادی کی نگرانی مزید سخت کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسداد منشیات مہم کی آڑ میں مقامی کاروباری اداروں کے خلاف کارروائیوں نے ہزاروں خاندانوں کو معاشی بدحالی میں دھکیل دیا ہے جبکہ دوسری طرف وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر شراب کی دکانیں کھولی جارہی ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل اور خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔