یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری RBWRP-TA منصوبے کے تحت ہائیڈروپونکس پر 4 روزہ ToT ریفریشر تربیتی ورکشاپ کامیابی سے مکمل کر لی گئی۔ اس تربیت میں زرعی تحقیق کے اداروں کے محققین نے عملی طور پر ہائیڈروپونک نظام کے آپریشن، غذائی اجزا کے انتظام اور پانی کے معیار کی جانچ کے جدید طریقوں پر مہارت حاصل کی۔تربیتی پروگرام میں ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ
ہائیڈروپونکس بلوچستان جیسے خطے کے لیے نہایت اہم، جدید اور پانی کی بچت کرنے والا زرعی نظام ہے، ڈاکٹر قاسم کاکڑ

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 19 مئی (اے پی پی):یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری RBWRP-TA منصوبے کے تحت ہائیڈروپونکس پر 4 روزہ ToT ریفریشر تربیتی ورکشاپ کامیابی سے مکمل کر لی گئی۔ اس تربیت میں زرعی تحقیق کے اداروں کے محققین نے عملی طور پر ہائیڈروپونک نظام کے آپریشن، غذائی اجزا کے انتظام اور پانی کے معیار کی جانچ کے جدید طریقوں پر مہارت حاصل کی۔تربیتی پروگرام میں ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ ،ڈائریکٹوریٹ آف ایگریکلچر ریسرچ اور بلوچستان ایگریکلچر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر زرعی کالج کے محققین نے شرکت کی، جبکہ بین الاقوامی ہائیڈروپونکس ماہر نے شرکا کو عملی تربیت فراہم کی۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ بلوچستان ڈاکٹر قاسم کاکڑ نے RBWRP-TA منصوبے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جدید تربیتیں تحقیقی اداروں کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہیں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہائیڈروپونکس بلوچستان جیسے خطے کے لیے ایک نہایت اہم، جدید اور پانی کی بچت کرنے والا زرعی نظام ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی کمی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل ریسرچ ڈاکٹر قاسم کاکڑ نے بتایاکہ ہائیڈروپونکس مستقبل کی کلائمیٹ اسمارٹ زراعت کی بنیاد ہے، جس سے کم پانی میں زیادہ پیداوار ممکن ہے۔تحقیقی اداروں کو اس ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر کسانوں تک منتقل کرنے کے لیے عملی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔جدید تحقیق کو صرف لیبارٹری تک محدود رکھنے کے بجائے فیلڈ اور فارمرز کی سطح تک لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔نوجوان زرعی گریجویٹس کو اس شعبے میں خصوصی تربیت دے کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہائیڈروپونکس اور دیگر جدید زرعی طریقے بلوچستان میں فوڈ سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور زرعی پیداوار بڑھانے میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے اس امید کا اظہار کی کہ اس تربیت کے مثبت نتائج مستقبل میں زرعی تحقیق اور پیداوار میں نمایاں بہتری کا باعث بنیں گے۔








