ٹی بی کے مریضوں میں ڈپریشن کی تشویشناک حد تک اعلیٰ شرح کا انکشاف

پشاور۔ 03 جون (اے پی پی):پاکستان اور برطانیہ کے درمیان صحت کے شعبے میں ہونے والے ایک تاریخی اور مشترکہ تحقیقی منصوبے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں تپِ دق (ٹی بی) کے مریضوں میں ڈپریشن (ذہنی دباؤ) کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ٹی بی کے علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کو فوری طور پر ذہنی صحت …

پشاور۔ 03 جون (اے پی پی):پاکستان اور برطانیہ کے درمیان صحت کے شعبے میں ہونے والے ایک تاریخی اور مشترکہ تحقیقی منصوبے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں تپِ دق (ٹی بی) کے مریضوں میں ڈپریشن (ذہنی دباؤ) کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ٹی بی کے علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کو فوری طور پر ذہنی صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ان خیالات کا اظہار برطانیہ کی کیل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے معروف ماہرِ نفسیات اور ‘کنٹرول’ (CONTROL) پروگرام کے چیف انویسٹی گیٹر پروفیسر ڈاکٹر سعید فاروق نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی ( کے ایم یو) پشاور کے الیگزینڈر فلیمنگ( سینیٹ) ہال میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹرآفس آف ریسرچ، اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن(اورک) کے ایم یو ڈاکٹر زہیب خان، ایڈیشنل ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر ذیشان کبریا اور ایڈیشنل ڈائریکٹر میڈیا کے ایم یو ڈاکٹر عالمگیر آفریدی بھی موجود تھے۔’کنٹرول’ پروگرام (پاکستان اور افغانستان میں ڈپریشن اور ٹی بی کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے ٹی بی کے علاج کے دوران ذہنی تھراپی) کے ابتدائی نتائج پیش کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سعید فاروق نے بتایا کہ ڈپریشن اور اینگزائٹی دنیا بھر میں مختلف امراض سے ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ انہوں نے وضح کیا کہ جہاں ٹی بی کا ایک مریض ممکنہ طور پر 10 سے 15 افراد میں یہ بیماری پھیلا سکتا ہے، وہیں تقریباً 40 فیصد مریض اینگزائٹی (گھبراہٹ) کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت رجسٹرڈ 1,200 مریضوں میں سے 570 میں شدید ذہنی صحت کے مسائل پائے گئے، جن میں سے تقریباً 66 فیصد مریض معتدل سے لے کر شدید ڈپریشن کا شکار تھے۔واضح رہے کہ برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ریسرچ (NIHR) کے مالی تعاون سے چلنے والا ‘کنٹرول’ پروگرام کیل یونیورسٹی اور کے ایم یو کا ایک مشترکہ اقدام ہے۔ اس کا مقصد مقامی ثقافت کے مطابق ڈھالی گئی ‘کاکنیٹیو بیہیویئرل تھراپی’ (CBT) کو ٹی بی کے روایتی علاج کا حصہ بنا کر مریضوں کے صحتیاب ہونے کی شرح کو بہتر بنانا ہے۔محققین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی بی کے مریضوں کو اکثر ڈپریشن، اینگزائٹی، سماجی بدنامی کے خوف، تنہائی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کے علاج اور صحتیابی کے عمل کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں جاری اس کلینیکل ٹرائل کا مقصد ٹی بی کے عام علاج کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مدد فراہم کرنے کی افادیت اور لاگت کا جائزہ لینا ہے۔یہ منصوبہ کمیونٹی کی شمولیت، نئی پالیسیوں کی تیاری اور تحقیق کی صلاحیت کو بڑھانے پر بھی کام کر رہا ہے جس کے حاصل شدہ حتمی نتائج سے سے ذہنی صحت کی خدمات کو قومی اور صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگراموں کا حصہ بنا کر ملک بھر میں ٹی بی کے مریضوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں بروئے کار لایاجا سکے گا۔

مزید خبریں