محرم الحرام میں امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے "کاروانِ امن” کا تحصیل سلانوالی ، ساہیوال اور شاہپور کا دورہ

محرم الحرام کے دوران امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے "کاروانِ امن "نے تحصیل سلانوالی ، ساہیوال اور شاہپور کادورہ کیا۔

سرگودھا۔ 03 جون (اے پی پی):محرم الحرام کے دوران امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے "کاروانِ امن "نے تحصیل سلانوالی ، ساہیوال اور شاہپور کادورہ کیا۔

ڈپٹی کمشنرسرگودھاحسین احمد رضا چوہدری کی خصوصی کاوشوں سے محرم الحرام کے دوران امن و امان، بھائی چارے، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے علماء کرام اور ممبران امن کمیٹی پر مشتمل "کاروانِ امن” تشکیل دیا گیا ہے، جس کی قیادت قاری احمد علی ندیم کر رہے ہیں۔ دیگر ممبران میں زونل خطیب قاری وقار عثمانی، میاں عبد الغفار آزاد ،علی جعفر نقوی اور میاں محمد رضا شامل ہیں۔ کاروانِ امن نے آج تحصیل سلانوالی، ساہیوال اور شاہپور کے دورے کئے جہاں مقامی علماء کرام، تحصیل امن کمیٹیوں کے اراکین، مذہبی رہنماؤں، اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کی موجودگی میں اجلاس منعقد ہوئے۔ اجلاسوں میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، جلوسوں اور مجالس کے پرامن انعقاد، ضابطہ اخلاق کی پابندی، بین المسالک ہم آہنگی، باہمی احترام اور مذہبی رواداری کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاسوں میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محرم الحرام کےدوران اتحاد و اتفاق کی فضا برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کے اختلافی امور کو افہام و تفہیم اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے انتظامیہ، پولیس، علماء کرام اور امن کمیٹیوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔کاروانِ امن کے اراکین نے کہا کہ محرم الحرام ہمیں صبر، برداشت، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، لہٰذاتمام مکاتب فکرکےعلماء اور شہری امن و محبت کے فروغ کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ضلع بھر میں امن، ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے قیام کیلئے ایسے رابطہ دوروں اور مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھاجائےگا۔اجلاسوں میں محرم الحرام کے دوران ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد، جلوسوں اور مجالس کے مقررہ اوقات کی پابندی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون اور باہمی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

مزید خبریں