تعلیم ایک متحرک ،مترقی اور مسلسل بڑھتا ہوا ارتقائی مرحلہ ہے،سماج بدلنے کیلئے تعلیمی نظام میں تبدیلی واحد شرط ہے،گورنر بلوچستان

تعلیم ایک متحرک ،مترقی اور مسلسل بڑھتا ہوا ارتقائی مرحلہ ہے،سماج بدلنے کیلئے تعلیمی نظام میں تبدیلی واحد شرط ہے،گورنر بلوچستان

کوئٹہ۔ 03 جون (اے پی پی):گورنربلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اپنے چالیس سالہ سیاسی سفر کے نتیجے میں یہ تفہیم حاصل ہوئی ہے کہ تعلیم ایک فیکسڈ اسٹرکچر نہیں ہے بلکہ یہ متحرک، مترقی اور مسلسل بڑھتا ہوا ارتقائی مرحلہ ہے۔ سماج کے بدلنے کے ساتھ تعلیمی نظام کی تبدیلی مشروط ہے۔ ہمیں اپنے نظام اور نصاب تعلیم بدلتے تقاضوں اور انسانی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ بنانا ہوگا۔ روایتی اکیڈمک ڈگریز کے علاہ آج جدید مہارت، پروفیشنل ٹریننگ اور ڈپلومہ کورسز کی بڑھتی ہوئی اہمیت و افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈگری اور مہارت کے درمیان ایک تکمیلی شراکت داری ہے۔ جدید مہارت اکیڈمک ڈگری کو تقویت بخشتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں وزیر اعظم کی لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت منعقدہ تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی، اراکین صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، ہادیہ نواز، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور بازئی، وزیراعظم پاکستان کے یوتھ کوآرڈینیٹر بلوچستان حیدر خان اچکزئی ، یورپی یونین اور آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کے نمائندوں سمیت فیکلٹی ممبرز اور اسٹوڈنٹس کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کورونا وائرس کویڈ نائنٹین کی وبا ءکے دوران یورپی یونیورسٹیوں میں آن لائن تعلیم کو نئی شکل دینے میں مدد کی۔

ان کا تجربہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آن لائن لیکچر دینے کا اہتمامِ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ ایمرجنسی اور بحران کے وقت اس نے ہمیں جڑے رکھا ہم یورپی یونین اور آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کا شکریہ کرتے ہیں جنھوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان اور یونیورسٹی آف تربت میں آن لائن سسٹم نصب کرنے میں مدد کی اور اب اس سلسلے کو دیگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تک وسعت دینی چاہیے ۔ یہ بات باعث فخر ہے کہ ہم نے صوبہ کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ کو 40 فیصد سے 80 فیصد تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ۔

اس مقصد کے حصول میں ہم وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر نجی اداروں کے تعاون کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ہم آن لائن صلاحیت کے ذریعے دوسرے ممالک اور شہروں کے بین انٹرنیشنل اسکالرز اینڈ ریسرچرز سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں ڈیجیٹل لیٹریسی اور آن لائن لرنینگ اہم ستون ہیں جو ہمیں آنے والے کسی بھی چیلنج کیلئے تیار کرتا ہے۔ اس تیز رفتار دنیا میں ترقی کی نئی منازل طے کرنے کیلئے ہمیں جدید طور طریقے اپنانے ہونگے کیونکہ تعلیمی نظام کبھی کسی مخصوص مدت میں منجمد نہیں ہوتا ہے۔

ہمیں تعلیمی پالیسی کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق اپڈیٹ کرنا پڑے گا تاکہ سماجی علوم، میڈیکل اور ٹیکنالوجی جیسے شعبے روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ پروان چڑھیں۔ اصل تعلیمی نظام حقیقی زندگی سے متعلقہ اور عوام کو جوابدہ ہوتا ہے۔ تقسیم لیپ ٹاپ تقریب کے شرکا سے خطاب میں رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ اس ترقی یافتہ دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایک قوت ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو کنزیومر کی بجائے پروڈیوسر ثابت کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے مسائل سے آگاہ کیجئے اور ہم قومی اسمبلی کے فلور پر متعلقہ حکام تک ان کو پہنچاتے رہیں گے ۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یونیورسٹی اسٹوڈنٹس میں لیپ ٹاپس جبکہ منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیے ۔ گورنر مندوخیل نے بعدازاں اسمارٹ کلاس روم کا افتتاح بھی کیا ۔

 

مزید خبریں