ڈائریکٹر زراعت توسیع چوہدر ی خالد محمود نے کہا ہے کہ زرعی ادویات کی باقیات سے پاک چاول کی بھرپور پیداوار کا حصول یقینی بنا کر برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے تمام سٹیک ہولڈرزکو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
زرعی ادویات کی باقیات سے پاک چاول کی بھرپور پیداوار یقینی بنا کر برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، ڈائریکٹر زراعت

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 09 جون (اے پی پی):ڈائریکٹر زراعت توسیع چوہدر ی خالد محمود نے کہا ہے کہ زرعی ادویات کی باقیات سے پاک چاول کی بھرپور پیداوار کا حصول یقینی بنا کر برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے تمام سٹیک ہولڈرزکو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اے پی پی کو بتایا کہ چونکہ دنیابھرمیں پاکستان کے اعلیٰ معیار کے حامل چاول کی زبردست مانگ موجودہے اس لیے معیاری چاول کی بمپر کراپ حاصل کرکے جہاں قیمتی زرمبادلہ حاصل کیاجاسکتاہے وہیں ملکی غذائی ضروریات بھی بآسانی پوری کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے چاول میں زرعی ادویات کی باقیات کی ٹیسٹنگ و مانیٹرنگ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنا دیا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ چاول بیرون ملک بر آمد کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام سٹیک ہولڈرز بشمول محکمہ زراعت اوررائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن پاکستان زرعی ادویات کی باقیات سے پاک چاول کی پیداوار کے حصول کیلئے کاشتکاروں کی بروقت رہنمائی اور مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے صوبائی سطح پر ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنا دیا گیا ہے تا کہ دھان کی فصل کی بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کے بروقت تدارک کیلئے ماحول دوست زرعی زہروں کے استعمال کو یقینی بنا یا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کالا شاہ کاکو میں موجود پیسٹی سائیڈ لیبارٹری کو مزید اپ گریڈ کر کے عالمی معیار کے مطابق بنا دیا گیا ہے۔ اس لیبارٹری میں برآمد کنندگان کیلئے چاول کی زرعی ادویات کی باقیات کی ٹیسٹنگ کی سہولت بھی میسر ہے۔








