آبی ذخائر کو درپیش خطرات، نمل جھیل کے خشک ہونے کے باعث مہاجر پرندے فلیمنگو متبادل مسکن کی تلاش میں وادیٔ سون کی جھلار جھیل منتقل

میانوالی میں واقع نمل جھیل کے خشک ہونے کے باعث ہجرت کرنے والے فلیمنگو نامی پرندے متبادل مسکن کی تلاش میں وادیٔ سون کی جھلار جھیل منتقل ہو گئے ہیں جس سے پاکستان کے آبی ذخائر کو درپیش خطرات اور ان کے موثر تحفظ کی ضرورت ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔

اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):میانوالی میں واقع نمل جھیل کے خشک ہونے کے باعث ہجرت کرنے والے فلیمنگو نامی پرندے متبادل مسکن کی تلاش میں وادیٔ سون کی جھلار جھیل منتقل ہو گئے ہیں جس سے پاکستان کے آبی ذخائر کو درپیش خطرات اور ان کے موثر تحفظ کی ضرورت ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ وڈیو اور جنگلی حیات کے فوٹوگرافر عمر بن خالد کی تصاویر میں سینکڑوں فلیمنگو کو جھلار جھیل میں جمع ہوتے دیکھا گیاجہاں وہ نمل جھیل کے خشک ہونے کے بعد پہنچے ہیں۔اگرچہ فلیمنگو نامی پرندوں کی آمد نےپرندوں کے شوقین افراد اور ماہرین ماحولیات کو خوشی دی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نقل مکانی ایک تشویشناک ماحولیاتی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کے مطابق نمل جھیل طویل عرصے سے ہجرتی پرندوں، آبی حیات اور مقامی آبادی کے لیے ایک اہم آبی ماحولیاتی نظام کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جھیل میں پانی کی مسلسل کمی موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل کے ناقص انتظام اور ماحولیاتی نظام کی تنزلی کے بڑھتے ہوئے دبائو کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے آبی ذخائر سے متعلق مطالعات کے مطابق پاکستان وسطی ایشیائی فلائی وے پر واقع ہے اور ہر سال لاکھوں ہجرتی پرندوں کی میزبانی کرتا ہےجس کے باعث آبی ذخائر کا تحفظ علاقائی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر ’’سیو نمل لیک‘‘ کے عنوان سےچلائی گئی آگاہی مہم میں نمل جھیل کو میانوالی کا قدرتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ جھیل کا خشک ہونا مستقبل میں آبی بحران کی علامت بن سکتا ہے۔ مہم میں پانی کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ، مقامی آبادی کی معاونت اور تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔پائیدار ترقیاتی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری متعددمواقع پر اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے آبی ذخائر ملک کے سب سے کم توجہ پانے والے قدرتی وسائل میں شامل ہیں جبکہ ان کی تباہی حیاتیاتی تنوع، آبی تحفظ اور مقامی روزگار کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔بین الاقوامی ادارہ برائے تحفظ فطرت (آئی یو سی این) اور رامسر کنونشن سیکرٹریٹ کی تحقیق کے مطابق 1970ء سے اب تک دنیا بھر میں تقریباً 35 فیصد آبی ذخائر ختم ہو چکے ہیں جوماحولیاتی نظام کے زوال کی تیز ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔جنوبی ایشیا میں بھی بڑھتے درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں اور زمین کے غیر پائیدار استعمال کے باعث میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام شدید دبائو کا شکار ہیں۔پنجاب حکومت نے محکمہ جنگلی حیات و پارکس کے ذریعے آبی ذخائر کےتحفظ کے لیے مختلف اقدامات شروع کر رکھے ہیں جن میں محفوظ علاقوں کا انتظام، ہجرتی پرندوں کی نگرانی اور مسکن کے تحفظ کے پروگرام شامل ہیں۔محکمہ بین الاقوامی اہمیت کےحامل رامسر مقامات اور دیگر آبی ذخائر کے موثر انتظام پر بھی کام کر رہا ہے۔محکمہ جنگلی حیات و پارکس پنجاب کے ڈائریکر جنرل مدثر ریاض ملک کے مطابق آبی ذخائر اور ہجرتی پرندوں کے مساکن کا تحفظ پنجاب کی حیاتیاتی تنوع بالخصوص سالٹ رینج اور وادیٔ سون جیسے حساس ماحولیاتی علاقوں میں حکمت عملی کا اہم جزو ہے۔نمل جھیل کو درپیش خطرات کی تفصیلات پنجاب حکومت کے ادارے اربن یونٹ کی جانب سے تیار کردہ ’’نمل لیک بحالی و انتظامی منصوبہ 2022-2027‘‘ میں بھی بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جھیل خطرناک حد تک سکڑ رہی ہے اور اس کے ماحولیاتی توازن اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔مطالعے کے مطابق نمل جھیل کا اصل رقبہ تقریباً 5.5 مربع کلومیٹر تھا جو 2022ء تک کم ہو کر تقریباً 2.2 مربع کلومیٹر رہ گیایعنی جھیل اپنے اصل حجم کا تقریباً 57 فیصد کھو چکی ہے۔ رپورٹ میں اس کمی کی بڑی وجوہات موسمیاتی شدت، قدرتی آبی بہائو میں کمی، مٹی بھر جانے کا عمل اور پانی کے قدرتی راستوں میں غیر مناسب تبدیلیاں قرار دی گئی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نمل جھیل کا آبی ذخیرہ بنیادی طور پر گولڑ، ٹراپی، رکھی اور نمل ندیوں سے آنے والے بارشی پانی پر منحصر ہےتاہم کئی دہائیوں سے جمع ہونے والی مٹی نے جھیل کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جھیل کی تہہ بلند ہو گئی اور پانی کے قدرتی راستے اور ڈھانچے متاثر ہوئے۔رپورٹ میں پانی کی سطح میں کمی، قدرتی مساکن کی تقسیم، جنگلات کی کٹائی، زمین کی زرخیزی میں کمی، زمینی استعمال کے بدلتے رجحانات اور ہجرتی پرندوں کی تعداد میں کمی کو جھیل کے لیے بڑے خطرات قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو حیاتیاتی تنوع، سیاحت اور مقامی آبادی کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔جھیل کی بحالی کے لیے تجویز کردہ منصوبے میں آبی گزرگاہوں کی بحالی، چھوٹے بندوں کی تعمیر، نکاسی آب کے بہتر نظام، مٹی کی صفائی، آلودگی پر قابو،شجرکاری، سیلابی انتظامات، ماحولیاتی بحالی اور عوامی آگاہی مہمات شامل ہیں۔ منصوبے کامقصد نمل جھیل کو دوبارہ ایک صحت مند ماحولیاتی نظام میں تبدیل کرنا ہے جو حیاتیاتی تنوع، پائیدار سیاحت اور مقامی ترقی کی حمایت کر سکے۔ماہرین تحفظ ماحول کا کہنا ہے کہ فلیمنگو کی نمل جھیل سے جھلار جھیل منتقلی انہی ماحولیاتی خطرات کی عملی مثال ہے جن کی نشاندہی بحالی منصوبے میں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہجرتی پرندوں کی نقل مکانی اکثر ماحولیاتی نظام میں بگاڑ کی پہلی واضح علامت ہوتی ہے اور پنجاب کے آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے سرکاری اداروں،مقامی آبادی اور ماحولیاتی تنظیموں کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق وادیٔ سون کی باہم منسلک جھیلیں، جن میں اچھالی، کھبیکی اور جھلار جھیلیں شامل ہیں پانی کی دستیابی میں کمی کے باعث ہجرتی پرندوں کے لیے پہلے سے زیادہ اہم پناہ گاہوں کی حیثیت اختیار کر رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق آبی ذخائر بڑی مقدار میں کاربن محفوظ رکھتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی تباہی نہ صرف جنگلی حیات بلکہ خشک سالی، سیلاب اور پانی کی قلت کے خطرات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر کنزرویشن پروگرامز رب نواز نے کہا کہ جھلار جھیل میں اترے ہوئے فلیمنگو کے جھنڈ کا منظر خوش آئند ضرور ہےلیکن یہ ایک بڑےماحولیاتی چیلنج کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک آبی ذخیرہ ختم ہوتا ہے تو جنگلی حیات کو محدود ہوتے ہوئے دیگر مساکن میں منتقل ہونا پڑتا ہے، اس لیے آبی ذخائر کا تحفظ نہ صرف پرندوں بلکہ انسانوں کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ماہرین ماحولیات نے آبی گزرگاہوں کے مربوط انتظام، تباہ شدہ آبی ذخائر کی بحالی، بہتر آبی حکمرانی، ماحولیاتی قوانین پر موثر عملدرآمد اور مقامی آبادی کی فعال شمولیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے

مزید خبریں