ایران اور امریکا کے درمیان ایک دوسرے پر حملے روکنے، دوحہ میں مذاکرات پر اتفاق ہو گیا ہے، بی بی سی

امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ نے دعو یٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک دوسرے پر حملے روکنے اور دوحہ میں مذاکرات کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

واشنگٹن۔29جون (اے پی پی):امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ نے دعو یٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک دوسرے پر حملے روکنے اور دوحہ میں مذاکرات کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ بی بی سی نے امریکی اشاعتی ادارے ایگزیوس کے حوالے سے بتا یا کہ ایران اور امریکا کے درمیان خلیجِ فارس میں حملے روکنے اور آئندہ چند دنوں میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں براہِ راست مذاکرات کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہاہے کہ دونوں فریق منگل کو اپنے اختلافات کے حل کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کریں گے جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئیں گے ۔ ایران نے امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار آبنائے ہرمز کے انتظام میں امریکی مداخلت کو قرار دیا ہے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے اور (آبنائے ہرمز میں )جہازوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔امریکی عہدیدار کے مطابق(پاکستان کی ثالثی میں 17 جون کو طے پانے والی)مفاہمتی یادداشت کے تمام حصوں پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ فی الحال دونوں فریق پیچھے ہٹ جائیں گے اور جہاز آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں گے ۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کے ساتھ مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کی ذمہ داری صرف ایرانی حکومت پر عائد ہوتی ہے، کسی بھی قسم کی مداخلت اس عمل میں خلل ڈال سکتی اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے۔امریکی اہلکار کے اس بیان کےبعد ایک عبوری امن معاہدے کو بچانے کی امیدوں میں اضافہ ہو گیا ہے جو گزشتہ کئی دنوں سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث دباؤ میں تھا۔