عرب ثقافت نے اپنے وسیع لسانی ورثے کو بہت محنت اور مشقت کے ساتھ محفوظ کیا ہے جس میں اونٹ کی زندگی کے کسی بھی حصے یا عمر کے لیے الفاظ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے
اونٹ عرب ثقافت کا اہم جزو،اس کی عمر کے ہر حصے کے لیے الفاظ کا بڑا ذخیرہ موجود ہے
ریاض ۔2جولائی (اے پی پی):عرب ثقافت نے اپنے وسیع لسانی ورثے کو بہت محنت اور مشقت کے ساتھ محفوظ کیا ہے جس میں اونٹ کی زندگی کے کسی بھی حصے یا عمر کے لیے الفاظ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے، اُونٹ کی پیدائش سے بڑھاپے تک کی عمر کو بیان کرنے کے لیے عربی زبان میں نہ صرف موقع کا لفظ موجود ہوتا ہے بلکہ صحرا نشینوں اور اُن کے ریوڑ کے درمیان برسوں سے جو تعلق قائم ہے عربی زبان میں اُس کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اونٹ صرف اِس لیے اہم نہیں کہ اس میں دیر تک مشکل حالات کا مقابلہ کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے بلکہ اِس سے کہیں آگے بڑھ کر یہ عرب تہذیب کی افضل ترین علامت ہے جو ہزاروں سال سے منتقل ہوتی چلی آنے والی ثقافتی روایات کا بھی مظہر ہے۔تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اونٹوں کے مقابلے میں کوئی دوسرا جانور نہیں ٹھہر سکتا۔ غیر معمولی خصوصیات کا حامل اونٹ اُس آب و ہوا کے مطابق بھی اپنی بقا کے لوازامات کو بروئے کار لاسکتا ہے جو کسی دوسرے جانور کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس میں پیاس برداشت کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے اور یہ اُن راہوں سے گزر کر بھی اپنی منزل تلاش کر سکتا ہے جو انتہائی دشوار گزار ہوتی ہیں۔حیاتیاتی طور پر اونٹ کی شکل میں رونما ہونے والا کرشمہ ابتدائی زمانوں میں سفر کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا تھا، حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے صحرا میں اونٹ نہ صرف کاروانوں کے ذریعے تجارت کا اہم ذریعہ تھا بلکہ مشکل اور دشوار ترین خطۂ زمین کے لیے اونٹنیوں کا دودھ، گوشت، کھال اور اون تک بھی انتہائی فائدہ مند ہوتی تھی۔ اپنی قوتِ برداشت کے لیے مشہور اونٹوں پر وزن لاد کر کاروان ایک دن میں تقریباً 60 کلومیٹر تک کا سفر کر لیا کرتے تھے اور یوں جدید دور کی ٹرانسپورٹ کے آنے سے پہلے اونٹ ہی جزیرہ نمائے عرب کی مختلف راہوں پر تجارتی سفر کے بنیادی وسیلے کے طور پر کام آتے تھے۔ اِس وراثت سے جڑی ایک قدیم روایت یہ تھی کہ قبائلی عرب اونٹوں کو نشاں زدہ کر دیا کرتے تھے، اونٹ کی کھال پر خصوصی علامات نہ صرف اُس کی ملکیت کا پتہ دیتی تھیں بلکہ اونٹ کے شجرے کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی تھیں،آج بھی اونٹ اصلیت، صبر اور فیاضی کی معروف علامت ہے۔ اونٹ کے نازک اور چھوٹے بچے ’’ الحوار ‘‘سے لے کر البکرہ’’ جو جوان اونٹنی کے لیے استعمال ہوتا ہے‘‘ تک اور الہرش (بڑے اونٹ) سے الفاطر (اونٹنی) تک لفظوں کا ایک ذخیرہ ہے جو عربوں اور شاہانہ اونٹوں کے اُس اٹُوٹ رشتے کی جیتی جاگتی گواہی ہے جس کا تاریخ کی تشکیل میں اہم ترین کردار ہے۔









