وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر الیگزینڈر ووچ کولوکولٹسیف کے درمیان ملاقات، دہشت گردی اور سائبر کرائم کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر الیگزینڈر ووچ کولوکولٹسیف کے درمیان ایک انتہائی اہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی ہے

نیویارک ۔8جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر الیگزینڈر ووچ کولوکولٹسیف کے درمیان ایک انتہائی اہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی ہے۔ اس اعلیٰ سطح کی ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے پاک روس تعلقات کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی اور موجودہ امن و امان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نئے افق دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ملاقات میں دونوں وزرائے داخلہ نے انسداد منشیات، انسداد دہشت گردی اور سائبر کرائم جیسے جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسیع کرنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی پولیس کے درمیان پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مشترکہ مشقیں کرانے کے امور پر بھی سنجیدگی سے گفتگو کی گئی۔

دوطرفہ سکیورٹی شراکت داری کو باضابطہ شکل دینے کے لیے دونوں وزرائے داخلہ نے دونوں ملکوں کی وزارت داخلہ کے درمیان ایک جامع مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے روسی ہم منصب کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی اور گزشتہ میٹنگ کے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔خطے کی سکیورٹی خصوصاً افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم حقائق سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے روسی ہم منصب کو بتایا کہ اس وقت افغانستان میں 25 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جو عالمی اور علاقائی امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ ان انتہا پسند تنظیموں کا مکمل خاتمہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے فوری، ٹھوس اور مشترکہ اقدامات اٹھائیں۔

مزید خبریں