نظامِ انصاف میں آئینی، جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات ناگزیر ہیں، حافظ احسان احمد کھوکھر
پاکستان کے نظام انصاف میں جامع، آئینی اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں، حافظ احسان احمد کھوکھر

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ، آئینی اور بین الاقوامی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان کے نظام انصاف میں جامع، آئینی اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں، کیونکہ بروقت، شفاف اور موثر انصاف ہی آئین کی بالادستی، عوامی اعتماد، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کی ضمانت ہے۔
’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ پاکستان کا آئین شہریوں کو قانون کے مطابق تحفظ، منصفانہ ٹرائل، مساوات اور فوری انصاف کی ضمانت دیتا ہے تاہم عدالتی نظام کو درپیش لاکھوں زیر التواء مقدمات، طویل عدالتی کارروائیاں اور انتظامی کمزوریاں انصاف کی بروقت فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی پاکستان کا ایک اہم آئینی اثاثہ ہے، لیکن صرف آزادی کافی نہیں، بلکہ اسے جدید انتظامی نظام، موثر کیس مینجمنٹ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب کے ساتھ جوڑنا ہوگا تاکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت (فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ) کا قیام پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں ایک اہم آئینی پیش رفت ہے تاہم اس ادارے کی کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب اس کے ساتھ عدالتی انتظام، مقدمات کے نظم و نسق، ڈیجیٹل اصلاحات اور شفاف تقرریوں جیسے بنیادی شعبوں میں بھی موثر اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ ملک بھر کی تمام عدالتوں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس قومی جوڈیشل کیس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جانا چاہیے جس کے تحت ہر مقدمے کو آغاز سے حتمی فیصلے تک ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت دی جائے۔ اس نظام سے مقدمات کی نگرانی، ریکارڈ کی منتقلی، خودکار شیڈولنگ، عدالتی اعدادوشمار کی تیاری اور عوام کو آن لائن معلومات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی کو موثر بنانے کے لیے ای فائلنگ، ورچوئل سماعت، ڈیجیٹل ریکارڈ، آن لائن مصدقہ نقول، الیکٹرانک نوٹسز، مصنوعی ذہانت پر مبنی قانونی تحقیق اور جدید کیس مینجمنٹ کو پورے ملک میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے بڑے شہروں میں عدالتوں کے اوقات کار میں توسیع اور ہفتے میں چھ دن عدالتیں کھولنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے ساتھ ججوں، عدالتی عملے، تحقیقاتی معاونت اور جدید سہولیات کی فراہمی بھی ضروری ہوگی تاکہ انصاف کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کا ایک اہم پہلو میرٹ، دیانت، آئینی بصیرت، قانونی مہارت اور انتظامی صلاحیت کی بنیاد پر ججوں کی تقرری ہے، کیونکہ عوام کا اعتماد عدلیہ پر اسی وقت مضبوط ہوگا جب تقرری کا نظام شفاف اور قابل اعتماد ہوگا۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ وکلاء برادری بھی عدالتی اصلاحات میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلوں کو پیشہ ورانہ اخلاقیات، غیر ضروری التواء کی حوصلہ شکنی اور ذمہ دارانہ وکالت کے فروغ کے لیے اپنے ضابطہ اخلاق کو مزید موثر بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خاندانی، تجارتی، ٹیکس، آئینی اور فوجداری مقدمات کے لیے مناسب مدت سماعت اور فیصلے کے اہداف مقرر کیے جائیں جبکہ ثالثی، مصالحت اور دیگر متبادل تنازعاتی نظام (اے ڈی آر) کو فروغ دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی اصلاحات کے لیے عدلیہ، پارلیمنٹ، حکومت، پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلوں، جامعات، کاروباری شعبے، سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی ماہرین پر مشتمل ایک قومی مکالمہ شروع کیا جانا چاہیے تاکہ آئین کے مطابق ایک جامع، قابل عمل اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ اصلاحاتی روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس مضبوط آئینی بنیاد، باصلاحیت قانونی افرادی قوت اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اجتماعی عزم، جدید ٹیکنالوجی اور موثر پالیسی سازی کے ذریعے ایسا عدالتی نظام تشکیل دیا جائے جو عوام کو فوری، سستا اور معیاری انصاف فراہم کر سکے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ عدالتی اصلاحات صرف زیر التواء مقدمات کم کرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کی بحالی، بنیادی حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی، جمہوری استحکام، معاشی ترقی اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر قومی ضرورت ہیں








