"انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے بورڈ نے ایڈنبرا میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں گورننس، رکنیت اور رکن ممالک کی معاونت سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دے کر عالمی کرکٹ کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی جانب پیش رفت کی ہے۔”
آئی سی سی کاگورننس، رکنیت اور رکن ممالک کی معاونت سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری

مزید خبریں
لاہور۔15جولائی (اے پی پی):انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے بورڈ نے ایڈنبرا میں ہونے والے سالانہ اجلاس کے اختتام پر گورننس، رکنیت اور رکن ممالک کی معاونت سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔
آئی سی سی بورڈ نے گورننس کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے دو نئی ذیلی کمیٹیاں قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔ گورننس ریویو کمیٹی کی سربراہی بھارتی کرکٹ بورڈ کے دیواجیت سیکیا کریں گے، جبکہ اس میں جنوبی افریقہ کے ڈاکٹر محمد موساجی اور آئی سی سی کی آزاد ڈائریکٹر ڈاکٹر روز ریواز بھی شامل ہوں گی۔ اسی طرح فرنچائز لیگز کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جس کے چیئرمین بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے تمیم اقبال ہوں گے۔ کمیٹی میں کرکٹ نمیبیا کے ڈاکٹر روڈی وین ویورن، بی سی سی آئی کے دیواجیت سیکیا، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے رچرڈ گولڈ اور آسٹریلیا کے ٹوڈ گرین برگ شامل ہوں گے۔ آئی سی سی نے ماریشس کو باضابطہ طور پر اپنی 111ویں رکن ریاست کی حیثیت دے دی ہے۔ کونسل کے مطابق یہ فیصلہ دنیا بھر میں کرکٹ کے فروغ، ابھرتی ہوئی منڈیوں میں کھیل کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور زیادہ سے زیادہ ممالک میں کرکٹ کی ترقی کے عزم کا حصہ ہے۔ بورڈ نے ویسٹ انڈیز کی مالی معاونت کے لیے1 کروڑ 28 لاکھ20 ہزار امریکی ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری بھی دی، تاکہ رکن بورڈ کو درپیش مالی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ کینیڈا کے معاملے پر آئی سی سی بورڈ نے بحالی کے لیے شرائط کی منظوری دی ہے۔ بورڈ کے مطابق کینیڈا کی معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وہ تمام مقررہ شرائط پوری نہیں کر لیتا۔ سری لنکا کرکٹ کے حوالے سے بورڈ نے نظرثانی شدہ آئین کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فی الحال سری لنکا کرکٹ کو آئی سی سی بورڈ اجلاسوں میں نمائندگی کی اجازت نہیں ہوگی۔ آئی سی سی بورڈ نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے نو منتخب صدر کو فل ممبر ڈائریکٹر کے طور پر تسلیم کر لیا ہے، جبکہ آئی سی سی کی سالانہ جنرل میٹنگ نے رکنیت کے معیار کی خلاف ورزیوں پر فرانس کرکٹ کو باضابطہ طور پر نوٹس پر رکھنے کی منظوری بھی دے دی۔







